- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
میرا سوال یہ ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ مبارک میں قحط سالی ہوئی۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہما کو دعا کے لیے کہا ۔ ہمارے قائد محترم مولانا فضل الرحمٰن دامت برکاتہم العالیۃ مشکل وقت میں آپ علیہ السلام کے روضہ مبارک پر حاضر ہو کر آپ علیہ السلام کو دعا کے لئے عرض کرتے ہیں۔ تو اب سوال یہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آپ علیہ السلام کے روضہ مبارک پر حاضر ہو کر کیوں دعائیں نہیں کرواتے تھے؟ اس سوال کے نقلی وعقلی جوابات عنایت فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کے سامنے دو واقعات پیش ہوئے جن میں روضۂ رسول علی صاحبھا الصلوٰۃ والسلام پر آ کر دعا کی درخواست کا ذکر ہے۔ یہ دونوں واقعات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک بہت بڑی جماعت کے سامنے ہوئے۔ ان دو خلفائے راشدین رضی اللہ عنہما نے ان واقعات کی تردید نہیں بلکہ تقریراً ان کی تائید فرمائی۔ یہ دلیل ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نزدیک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارک پر حاضر ہو کر دعا کے لئے عرض کرنا جائز ہے۔دونوں واقعات ملاحظہ ہوں:[۱] امام ابو بکر عبد اللہ بن محمد بن ابی شیبۃ ابراہیم بن عثمان العبسی الکوفی (ت235ھ) اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں:عَن مَالِكِ ن الدَّارِ قَالَ : وَكَانَ خَازِنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الطَّعَامِ قَالَ: أَصَابَ النَّاسَ قَحْطٌ فِي زَمَنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَجَاءَ رَجُلٌ إِلٰى قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ! اِسْتَسْقِ لأُمَّتِكَ فَإِنَّهُمْ قَدْ هَلَكُوا. فَأَتَى الرَّجُلَ فِي الْمَنَامِ فَقِيلَ لَهُ : اِئْتِ عُمَرَ فَأَقْرِئْهُ السَّلَامَ وَأَخْبِرْهُ أَنَّكُمْ مُسْتَسْقَوْنَ وَقُلْ لَّهُ : عَلَيْكَ الْكَيْسُ! عَلَيْكَ الْكَيْسُ! فَأَتٰى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَخْبَرَهُ فَبَكٰى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ : يَا رَبِّ! لَا آلُو إلَّا مَا عَجَزْتُ عَنْهُ.(مصنف ابن ابی شیبۃ: ج17ص64، 65 باب ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب)
ترجمہ: مالک الدار جو حضرت عمررضی اللہ عنہ کے وزیر خوراک تھے، بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ایک بار لوگوں پر قحط آگیا۔ ایک شخص (حضرت بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی قبر مبارک پر گئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اپنی امت کے لئے بارش کی دعا کیجئے کیونکہ وہ قحط سے ہلاک ہورہے ہیں۔تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اس شخص کے خواب میں تشریف لائے اور فرمایا: عمر کے پاس جاؤ، ان کو سلام کہو اور یہ خبر دو کہ تم پر یقیناً بارش ہوگی اور ان سے کہو: تم پر سوجھ بوجھ (دانائی) لازم ہے۔ یہ شخص حضرت عمررضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان کو یہ خبر دی۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ رونے لگے اور فرمایا: اے اللہ ! میں صرف اسی چیز کو ترک کرتا ہوں جس سے میں عاجز ہوتا ہوں۔علامہ ابن جریر طبری رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے اس واقعہ کے ضمن میں یہ بات نقل کی ہے کہ جب یہ واقعہ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے بیان کیا اور فرمایا:اے لوگو! میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کیا تمہیں میرے طرزِ عمل سے زیادہ کوئی بہتر طرزِ عمل معلوم ہے؟ لوگوں نے کہا: نہیں۔ اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں بلال بن حارث کا خواب سنایا تو انہوں نے کہا: ان کا خواب سچا ہے۔( تاریخ طبری: ج2ص87 عامۃ الرماد کے واقعات، البدایہ والنہایہ: ج4ص98)حافظ عماد الدین اسماعیل بن ابی حفص عمر بن کثیر دمشقی شافعی (ت774ھ)، حافظ ابو الفضل شہاب الدین احمد بن علی ابن حجر عسقلانی الشافعی (ت852ھ) اور امام نور الدین ابو الحسن علی بن عبد اللہ بن احمد السمہودی الشافعی (ت911ھ) نے اس روایت کو ”صحیح“ قرار دیا ہے(البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: ج4ص98، فتح الباری لابن حجر: ج2ص639، وفاءالوفاء للسمہودی: ج4ص1374)[۲] حافظ ابوسعید السمعانی ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو دفن کرچکے تھے تو تین دن کے بعد ایک اعرابی (دیہاتی) ہمارے پاس آیا۔ وہ قبر انور پر گرگیا اور خاک اُٹھا کر اپنے سر پر ڈالی۔ عرض کرنے لگا: یا رسول اللہ! آپ ارشاد فرماتے تھے تو ہم اسے سنتے تھے، آپ نے اللہ تعالیٰ سے (اس کا کلام) محفوظ کیا اور ہم نے آپ سےمحفوظ کیا۔ اللہ نے آپ پر یہ آیت اتاری:﴿وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَّلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللّهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا﴾میں نے بھی اپنے آپ پر ظلم کررکھا ہے، اب آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں کہ آپ میرے لئے استغفار فرمائیں۔ چنانچہ قبرمبارک سے آواز آئی کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بخش دیاہے۔(وفاء الوفاء للسمہودی:ج4ص1361 الفصل الثانی فی بقیۃ ادلۃ الزیارۃ)ملحوظ: صحیح البخاری میں حضرت عمر کا حضرت عباس رضی اللہ عنہما سے دعا کرانا نہیں بلکہ ان کی ذات کا وسیلہ دے کر دعا کرنا ثابت ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ إِذَا قَحَطُوا اسْتَسْقَى بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا فَتَسْقِينَا وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا قَالَ فَيُسْقَوْنَ(صحیح البخاری: ج1ص137 باب سوال الناس الامام الاستسقاء اذا قحطوا)ترجمہ: جب لوگ قحط میں مبتلا ہوتے تو عمر بن خطاب، عباس بن عبدالمطلب کے وسیلہ سے دعا کرتے اور فرماتے کہ اے اللہ! ہم تیرے پاس تیرے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وسیلہ لے کر آیا کرتے تھے تو تو ہمیں سیراب کرتا تھا، اب ہم لوگ اپنے نبی کے چچا (عباس رضی اللہ عنہ) کا وسیلہ لے کر آئے ہیں، ہمیں سیراب کر۔ راوی کا بیان ہے کہ لوگ سیراب کئے جاتے( یعنی بارش ہوجاتی)۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved