- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک عرصے سے راقم اسلامی تعلیم کی اہمیت سے متعلق مضامین کو جمع وترتیب دے رہا ہے۔ راقم کی نظر میں سورہ جمعہ کی آیت نمبر دو آئی، جس کے ذیل میں راقم نے اس کی یوں ناقص تشریح کی ہے۔ جسے راقم ذیل میں تحریر کر رہا ہے:”اب سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں علم کس کو کہتے ہے ؟ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ۔(سورۃ الجمعہ:2)ترجمہ: وہی ہے جس نے اُمّی لوگوں میں انہیں میں سے ایک رسول کو بھیجا جو ان کے سامنے اس کی آیتوں کی تلاوت کریں ، اور ان کو پاکیزہ بنائیں ، اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیں ، جب کہ وہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔”اس آیت کریمہ کو سمجھنے سے قبل میں قارئین کے سامنے ایک سوال رکھتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے مکانات کی تعمیر ہوا کرتی تھی، جن میں وہ رہتے تھے؟ اگر آپ کا جواب ہاں ہے، تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس دور میں انجینئرموجود تھے۔ کپڑوں ،جوتوں اور دیگر ضروریات کی اشیاء بناتے تھے اور علاج معالجہ کے لیےطبی علم بھی رکھتے تھیں، پھر بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ان کو اُمّی قرار دیا۔ تو معلوم ہوا کہ اللہ کی نظر میں دنیاوی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مختلف چیزوں کا علم حقیقی علم نہیں بلکہ اس کی حیثیت صرف ایک فن کی ہے ۔ اس لیے اصل علم قرآن و حدیث کا ہے جو انسان کے باطن کی اصلاح کرتا ہے ، اسے روحانی طور پر مضبوط کرتا ہے، اور اس میں جوہرِ انسانیت پیدا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے چوٹی پہ جو نام ہے وہ الرحمٰن ہے، اسی طرح تمام علوم میں سے قرآن کریم کا علم چوٹی پر ہے۔آپ کی خدمت میں یہ عرض ہے کہ کیا اس کی ایسی تشریح کرنا اور ایسا استدال کرنا صحیح ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اس آیت کی تفسیر میں “اُمیّین” کا مفہوم سمجھانے کے لیے جوتعبیر آپ نے اختیار کی وہ درست ہے کہ حقیقی علم صرف وحی الٰہی ہے، جو انسان میں انسانیت کے جوہر پیدا کرتا اور ہدایت کے چراغ روشن کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں دنیوی چیزوں (صنعت و حرفت اور اشیاء کی ایجادات وغیرہ ) کا علم جو زندگی بسر کرنے کے لیے معین و مددگار بنتا ہے، یہ حقیقی علم نہیں بلکہ طبعی علم ہے، جو ہر انسان خواہ کافر کیوں نہ ہو، اسے دیا گیا ہے، بلکہ اس سے بڑھ کر ہر جاندار اس طبعی علم سے واقفیت رکھتا ہے۔ اس لیے ان دنیوی طبعی علوم کو حقیقی علم نہیں کہا جاسکتا بلکہ ان کی حیثیت محض فنون کی ہے۔
لیکن یاد رکھیے کہ یہاں دراصل دو چیزیں الگ الگ ہیں، ایک چیز ہے “امیین” کا صحیح مفہوم واضح کرنا، اور دوسری چیز ہے مختلف دنیوی طبعی علوم کو علم کی حقیقت سے خارج کرنا۔اس لیےان دونوں چیزوں کی وضاحت بھی الگ الگ کرنی چاہیے تھی، تاکہ بات کا سمجھنا مزید سہل ہو جاتا ، لیکن آپ نے فرق کیے بغیر ان دو نوں کو ایک ساتھ ذکر کر دیا۔ ذیل میں دونوں چیزوں کا الگ الگ مفہوم درج کیا جاتا ہے۔
پہلی چیز، امییّن کا صحیح مفہوم: “امیین” کی تعبیر جو ہمارے مفسرین کرام نے ذکر کی ہے، وہی درست تعبیر ہے، اسے ہی بیان کیا جائے۔ یعنی “امیین” سے ایسے لوگ مراد ہیں جو تعلیم اور تربیت سے محروم اور لکھنے پڑھنے سے ناآشنا تھے، جب ان میں علم کی شمع جل اٹھی اور حکمت کے چشمے پھوٹ پڑے، تو ایسے ناخواندہ اور غیر مہذب لوگ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اور فیض کی برکت سے مہذب، باشعور، اور علم و حکمت کے بحر بے کراں بن گئے۔ (اس ضمن میں دنیاوی طبعی فنون مثلاً بلند و بالا عمارات، لباس و پوشاک اور جوتے بنانے کا ذکرنا موزوں نہیں ہے۔) حضرت مولانا مفتی محمدشفیع رحمہ اللہ سورۃ الجمعہ کی مذکورہ آیت کی تفسیر میں “امیین” کا مفہوم تحریر فرماتے ہیں۔
” هوالذي في الأمیين رسولاً منهم ، امیین ، اُمّی کی جمع ہے ، نا خواندہ شخص کو کہا جاتا ہے، عرب کے لوگ اس لقب سے معروف ہیں، کیونکہ ان میں نوشت و خواندکار واج نہیں تھا بہت کم آدمی لکھے پڑھے ہوتے تھے، اس آیت میں حق تعالیٰ کی عظیم قدرت کے اظہار کے لئے خاص طور پر عربوں کے لئے یہ لقب اختیار فرمایا، اور یہ بھی کہ جو رسول بھیجا گیا وہ بھی انہی میں سے ہے یعنی امی ہے ، اس لیے یہ معاملہ بڑا حیرت انگیز ہے کہ قوم ساری امی اور جو رسول بھیجا گیا وہ بھی امی، اور جو فرائض اس رسول کے سپرد کئے گئے جن کا ذکر اگلی آیت میں آرہا ہے وہ سب علمی تعلیمی اصلاحی ایسے ہیں کہ نہ کوئی امی ان کو سکھا سکتا ہے اور نہ امی قوم ان کو سیکھنے کے قابل ہے ۔
یہ صرف حق تعالیٰ جل شانہ کی قدرت کاملہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اعجاز ہی ہوسکتا ہے کہ آپ نے جب تعلیم و اصلاح کا کام شروع فرمایا تو انہی امیین میں وہ علماء اور حکماء پیدا ہوگئے جن کے علم وحکمت، عقل و دانش اور ہر کام کی عمدہ صلاحیت نے سارے جہان سے اپنا لوہا منوالیا،۔”
(معارف القرآن ج 8 ص 434 ادارۃ المعارف کراچی)
دوسری چیز، طبعی علم کا حقیقتِ علم سے خارج ہونا: دنیاوی ضروریات کی تکمیل اور بہترین طریقے سے زندگی بسر کرنے کے لیے مختلف چیزوں کا انتظام کرنا، مثلاً رہائش کے لیے عمدہ اور مضبوط قیام گاہوں کا قیام ، عملی طور پر نظام و نسق اور ڈسپلن کی پابندی کا مظاہرہ، موسم کے سرد گرم ہونے کے اعتبار سے خوراک و اجناس کی باحفاطت ذخیرہ اندوزی، اور علمِ طب سے آگاہی اورمختلف اَمراض کا تسلی بخش علاج کرنا وغیرہ، ان چیزوں کا ادراک جس طرح انسان کو حاصل ہے، ایسے ہی دیگر حیوانات بھی (انسان کی طرح) دنیوی طبعی علم اور صنعت و حرفت سے بخوبی واقفیت رکھتے ہیں، تاکہ معلوم ہو سکے کہ انسان کو دیگر جانداروں پر فضیلت ان دنیاوی تجربات، صنعت و حرفت، اور مہارت و کاریگری کی وجہ سے نہیں بلکہ اس تفوّق ، برتری اور شرف کی اصل وجہ حقیقی علم (علمِ الٰہی)ہی ہے، اس حقیقت کو حکیم الاسلام قاری محمد طیب رحمہ اللہ نے اپنے ایک وعظ بہ عنوان “جہلائے عرب سے مقامِ صحابیت تک” میں بہت خوب صورت اور نہایت عمدہ انداز میں واضح کیا ہے، ذیل میں چند اقتباسات نقل کیے جاتے ہیں۔
“گویا سب سے پہلا اسلام کا حکم یہ تھا کہ پڑھو۔ پڑھنے لکھنے کا حکم تھا اور اس کے بعد فرمایا کہ ” اِقرأ وربك الأكرم الذي علم بالقلم” اس پروردگار کے نام سے پڑھو جس نے قلم سے تعلیم دی ہے،یہ لکھنا تھا۔ تو پڑھنا اور لکھنا دو چیزوں کا حکم کیا گیا ۔ یہ دونوں بنیادیں ہیں قوموں کی ترقی کے لئے۔
مگر کون سا علم پڑھو۔ ایک تو دنیوی علوم ہیں جن سے آدمی روٹی پکانا، مکان بنانا ، کرسیاں بنانا بہتر سامان بنانا سیکھ جائے یہ معاشرتی چیزیں ہیں۔ علم اس کا نام نہیں۔ اس کا نام تجربات، صنعت و حرفت اور دستکاری ہے۔ انبیاء علیہم السلام دستکاری یا صنعت و حرفت سکھلانے کے لئے نہیں آئے۔ یہ تو انسان کی طبعی صفت ہے ، دنیا میں کوئی نبی نہ آئے تب بھی انسان مکان بنا سکتا ہے، روٹی پکا سکتا ہے ، کپڑا بنا سکتا ہے ، پہن سکتا ہے۔ تو نبوت کا مقصد معاشرتی چیزوں کی تدابیر سکھلانا نہیں ہے، یہ تو انسان کی طبیعت ہے خود بخود کرتا ہے اور جتنا کرتا ہے بڑھتا چلا جاتا ہے، بہتر سے بہتر چیز بننے لگتی ہے خوشنما نمونے اور ڈیزائن اپنے تجربے اور طبیعت سے پیدا کرتا رہتا ہے۔ اس کا نام علم نہیں، اس کا نام صنعت و حرفت ، دستکاری اور صناعی ہے، اس کی بھی انسان کو ضرورت پڑتی ہے، اس کے ضروری ہونے سے انکار نہیں ہے۔
علوم طبعیتہ کمال انسان نہیں:
لیکن یہ چیزیں انسان کے طبعی علوم ہیں اور طبعیاتی علوم انسان کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں ہر جاندار میں ہیں۔ دنیا کا کوئی جانور ایسا نہیں ہے جو اپنے رہن، سہن کا ڈھنگ نہ جانتا ہو۔ ایک چڑیا گھونسلہ بناتی ہے اس کاوہی مکان ہے۔ ایک درندہ بھٹ بنا کے رہے گا اس کا وہی مکان ہے ، تو پرندے چرندے اور درندے سب ہی رہتے ہیں (تو اپنے لئے موزوں مکان ہر جاندار بناہی لیتا ہے) …… کھانا ظاہر بات ہے کہ سب جانوروں میں مشترک ہے، ہر ایک نے اپنی اپنی غذا کو پہچان رکھا ہے اپنی اپنی غذا استعمال کرتے ہیں اور اس کے لئے کمانے کو بھی جاتے ہیں۔ چڑیا اپنے گھونسلے سے نکل کر کھیتوں میں جاتی ہے دانہ چگتی ہے۔ اس کے دل میں اللہ کی طرف سے الہام ہو تا ہے کہ گھر بیٹھے کچھ نہیں ملے گا۔ محنت کرنی پڑے گی تب چار دانے ہاتھ آئیں گے ۔ “…….
چند سطور بعد مزید لکھتے ہیں:
” تو کوئی چیز طبعیاتی امور میں ایسی نہیں ہے جو جانوروں کے اندر نہ ہو۔ تو میرا مطلب یہ تھا کہ انبیاء علیہم السلام یہ علوم لے کر نہیں آئے۔ یہ علوم تو طبیعاتی ہیں۔ رہن سہن، کھانے پینے، پہننے وغیرہ کے جتنے بھی علوم ہیں یہ اپنی اپنی بساط کے مطابق ہر حیوان میں موجود ہیں، یہ انسان کی خصوصیت نہیں کہ وہ فخر کر سکے۔
باعثِ فخر علم کون سا ہے؟
پھر آخر خصوصیت کیا ہے؟ انبیاء علیہم السلام کا ہے کے لئے آتے ہیں۔ خیمہ بننا بتلانا یا تعمیر یں سکھلانا یہ ان کا کام نہیں ہے ۔ ان کا کام روحوں کی اصلاح کرنا مخلوق کو سچے راستہ پر ڈالنا اور بچھڑے ہوئے بندوں کو خدا سے ملانا ہے ، تاکہ علم آنے لگے اور ان کے اندر اخلاق ربانی پیدا ہوں۔ صحیح معنی میں انسانیت آئے۔ تو انبیاء آدمی کو آدمی بنانے کے لئے آتے ہیں۔ اس علم کی ضرورت ہے جس سے روح اور قلب درست ہو۔ جس سے بدن سنور جائے۔ وہ علم تو حیوانات میں بھی ہے اس میں انبیاء کی ضرورت نہیں ہے۔ انبیاء کے علم کا موضوع وہ علم ہے جو اللہ کی طرف سے آتا ہے جس سے انسان کی روح میں نورانیت پیدا ہوتی ہے۔ اللہ کی ذات و صفات کا علم ، اس کے احکام کا علم ، اس کی شریعتوں کا علم حاصل ہو تا ہے۔ یہی سب سے بڑا علم ہے جس سے آدمی آدمی بنتا ہے۔ یہی علم ہے جو انبیاء علیہم السلام لے کر آتے ہیں جس کے بارے میں فرمایا گیا۔ ” اقرأ باسم ربک الذی خلق” کہ اپنے پروردگار کے نام سے پڑھو۔ یہ قرآن پاک کی پہلی آیت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ علم حاصل کرو جس میں رب کا نام پہلے آئے۔ رب کا تعارف ہو۔ اگر آپ نے پہاڑوں کا، زمینوں کا، درختوں کا اور جانوروں کا تعارف کر لیا تو یہ کوئی بڑی بات نہیں، تعارف تو اپنے خدا کا کرنا چاہیے کہ خدا کی ذات کیسی ہے؟ اس کی صفات کیسی ہیں؟ اس کی شانیں کیسی ہیں؟ اس کے احکام کیسے ہیں؟ اس کا دیا ہوا قانون کیسا؟ یہ چیزیں جانوروں کو نہیں انسانوں کو دی گئی ہیں۔ اسی علم کی بناء پر اللہ نے انسان کو اپنا خلیفہ بنایا اور اپنا نائب بنایا ہے کہ وہ میرا علم لے کر آرہا ہے۔ محض علم نہیں بلکہ وہ علم عقلوں سے بھی بالا تر ہے اور عقلیں بھی اسی سے درست ہوتی ہیں ، یہ علم دے کر انبیاء کو دنیا میں بھیجا۔ تو نبی آ کر انسان کو انسان بناتے ہیں۔ ان میں علم اور اخلاق پیدا کر کے انسانیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ ”
(خطبات حکیم الاسلام ج 1 ص 147 تا 150 دارالاشاعت کراچی)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved