• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

ملائکہ کی طرف ایک بے ہودہ چیز کی نسبت اور اس کی حقیقت

استفتاء

کیا کوئی حدیث ایسی بھی ہے کہ جس کا مفہوم کچھ اس طرح ہو (اگر کسی شخص نے مسجد میں جان بوجھ کر ریح خارج کی تو فرشتے اس ریح کو اپنے منھ میں لے کر باہر پھینک آتے ہیں )کیا یہ مفہوم کسی حدیث میں موجود ہے ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں:
“أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ مَا لَمْ يُحْدِثْ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ”
(سنن النسائی، حدیث نمبر 732)
ترجمہ: 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کوئی  بندہ بھی نماز پڑھنے کے بعد جب تک اسی جگہ پہ ( باوضو ) بیٹھا رہتا ہے تو ملائکہ اس کے حق میں رحمت اور مغفرت کی دعا کرتے رہتے ہیں۔ (جب وہ  بے وضو ہو جاتا ہے تو ملائکہ دعا کرنا ختم کر دیتے ہیں) 
(2) حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں:
أن نفرا أتوا النبي صلى الله عليه و سلم . فوجد منهم ريح الكراث . فقال “ألم أكن نهيتكم عن أكل هذه الشجرة إن الملائكة تتأذى مما يتأذى منه الإنسان”
(سنن ابنِ ماجہ: حدیث نمبر3365)
ترجمہ:
چند افراد پر مشتمل ایک جماعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے کُرّاث (پیاز اور لہسن جیسی تیز بُو والی ایک  سبزی   ) کی بُو محسوس ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں نے تمہیں  یہ سبزی کھانے سے منع نہیں کر رکھا ، بلاشبہ جن چیزوں سے انسان اذیت محسوس کرتا ہے ملائکہ کو بھی ان سے تکلیف ہوتی ہے۔ 
درج بالا دونوں احادیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ سوال میں جس بے ہودہ کام  کی نسبت ملائکہ کی طرف کی گئی ہے ، اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ خروجِ ریح کے وقت ملائکہ اس بدبو کی اذیت سے بچنے کے لیے دور ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا ملائکہ جیسی پاکیزہ مخلوق  کی طرف ایسی چیز کی نسبت کرنا بے ادبی ہے، ایسی باتوں سے احتراز کرنا چاہیے۔
  ملائکہ چونکہ معصوم اور پاکیزہ مخلوق ہے اس لیے ان کی طرف اچھی اور پاکیزہ چیزوں کو منسوب کرنا چاہیے۔ جیسا کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: 
“أُمِرْنَا بِالسِّوَاكِ وَقَالَ :« إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا قَامَ يُصَلِّى أَتَاهُ الْمَلَكُ فَقَامَ خَلْفَهُ يَسْتَمِعُ الْقُرْآنَ وَيَدْنُو ، فَلاَ يَزَالُ يَسْتَمِعُ وَيَدْنُو حَتَّى يَضَعَ فَاهُ عَلَى فِيهِ ، فَلاَ يَقْرَأُ آيَةً إِلاَّ كَانَتْ فِى جَوْفِ الْمَلَكِ ” 
(السنن الکبریٰ للبیہقی، حدیث نمبر:165)
ترجمہ:
ہمیں(مسلمانوں کو) مسواک کرنے کا حکم دیا گیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک (مسلمان) بندہ جب نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو فرشتہ  قرآن سننے کے لیے اس کے پیچھے آکر کھڑا ہو جاتا ہے اور قریب ہوتارہتا ہے، یہاں تک کہ وہ قرآن سنتے ہوئے اتنا زیادہ قریب آ جاتا ہے کہ اپنا منہ اس بندہ کے منہ پر رکھ دیتا ہے، پس بندہ جو بھی آیت پڑھتا ہے وہ فرشتے کے پیٹ میں داخل ہو جاتی ہے۔   
فائدہ: قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہونے کی وجہ سے نور ہے، اور ملائکہ بھی نورانی مخلوق ہیں، اس لیے وہ کلام اللہ کے نور کو اپنے اندر سمو لیتے ہیں۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء 
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved