• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

قسطوں کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں رقم بڑھانے کا حکم

استفتاء

عرض ہے کہ کیا ہم اس شرط کے ساتھ قسط پر سامان لے سکتے ہیں کہ اگر قسط لیٹ ہو گئی تو زیادہ پیسے دینے ہوں گے چاہے ہم قسط وقت پر ادا کر دیں؟ کیا اس شرط کی وجہ سے یہ کاروبار سود میں شامل ہو گا؟ وضاحت ارشاد فرما دیں۔ جزاک اللہ خیرا

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

قسطوں پر اشیاء کی خریدو فروخت کے لیے بنیادی طور پر دو شرطیں ملحوظ رکھی جائیں تو خرید وفروخت جائز ہے۔
1: جو چیز خرید یا فروخت کر رہے ہیں تو خرید و فروخت کا معاملہ کرتے وقت اس کی قیمت طے کر لی جائے۔ نقد معاملہ ہے یا ادھا ہے بہر صورت قیمت کا متعین ہونا ضروری ہے اور ادھار کی صورت میں مدت کا تعین کرنا بھی لازمی ہے۔
2: قسط کی ادائیگی میں تاخیر ہو جائے تو اس صورت میں کسی قسم کا جرمانہ عائد نہ کیا جائے۔
سوال میں ذکر کردہ صورت میں قسط لیٹ ہو جانے کی وجہ سے زیادہ پیسے دینے کا جو معاہدہ کیا جا رہا ہے یہ سودی معاہدہ ہے، اس لیے اس شرط کے ساتھ خرید وفروخت کرنا جائز نہیں۔ اس لیے کہ جس طرح سود سے بچنا ضروری ہے اسی طرح سودی معاملہ طے کرنے سے بچنا بھی ضروری ہے۔ قسطیں بروقت ادا کرنے کی صورت میں آدمی سود سے اگرچہ بچ جائے گا لیکن سودی معاملہ کرنے کا گناہ اسے ضرور ملے گا۔ اس لیے اس خرید و فروخت سے احتراز لازم ہے۔
اگر خریدارکسی محبوری یا کسی معقول عذر کی بنا پر قسط بروقت ادا نہیں کر سکا تو اسے مہلت دینا باعثِ اجر و ثواب ہے لیکن اگر بائع (دکاندار) یہ سمجھے کہ خریدار بلا وجہ ٹال مٹول کر رہا ہے اور اسے مہلت دینا بھی فائدہ مند نہیں ہے تو بائع کو یہ حق حاصل ہے کہ خرید وفروخت کے اس  معاملے کو ختم کر دے اور خریدار کو اس کی ادا شدہ اقساط واپس کر دے۔
 حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و  سلم نے فرمایا:
“كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفَعَةً فَهُوَ رِبًا.” 
 ترجمہ: ہر وہ قرض جس سے نفع حاصل کیا جائے تو یہ  نفع سود  ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء 
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved