• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

رجسٹریشن کی خاطر بیوی کو کاغذی طلاق دی، اب کیا حکم ہے؟

استفتاء

گزارش هے کہ ایک بندہ USA میں اپنی بیوی کے ساتھ مقیم ہے اور ملکی قوانین کے تحت اس کی رجسٹریشن بھی مکمل ہے۔ ابھی دوسال قبل اس نے پاکستان میں دوسری شادی کرلی، اب دوسری بیوی کو لے جانا چاہتا ہے، مگر USA کے قوانین کے مطابق بندہ بہ یک وقت ایک ہی بیوی رکھ سکتا ہے۔ اگر دوسری بیوی کو لےجانے کے لیے رجسٹریشن کرانا ہو تو پہلی بیوی کو کاغذی طلاق دینا ہوگی ،اس کے بعد ہی رجسٹریشن ہوگی ورنہ نہیں ۔ اس مجبوری کی وجہ سے اس بندہ نے اپنی پہلی بیوی کو کاغذی طلاق دے دی۔اب مسئلہ یہ ہے کہ پہلی بیوی کو طلاق ہو تو نہیں گئی؟ کیا بندہ رجوع کرسکتاہے؟ یا دوبارہ نکاح پڑھنا ہو گا ؟ براہِ کرم راہنمائی فرمائیے۔جزاک اللہ خیراً۔
نوٹ: پہلی بیوی وہاں کے قانون میں “گرل فرینڈ” بن کے ساتھ رہے گی، مگر اسلامی قوانین میں بیوی ہوگی۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

بہتر تھا کہ اس کاغذی طلاق نامہ کی نقل ارسال کر دی جاتی تاکہ معلوم ہوتا اس نے کن الفاظ سے کون سی طلاق دی ہے، پھر اس کے مطابق حکم تحریر کیا جاتا۔ تاہم اس حوالے سے جواب حسبِ ذیل ہے۔
طلاق ایسی چیز ہے جو لکھ کر دی جائے یا بول کر، غصہ میں دی جائے یا پیار میں، مذاق میں دی جائے یا سنجیدگی میں، سب کے سامنے دی جائے یا تنہائی میں، ایک ساتھ دی جائے یا الگ الگ ، ہر حال میں واقع ہو جاتی ہے۔ اس لیے یہ بات تو ثابت شدہ ہے کہ اس بندہ نے جب تحریری طلاق دے دی تو اس سے طلاق واقع ہو گئی۔ اب رہی یہ بات کہ اس طلاق کا کیا حکم ہے؟ سو اس کی تفصیل یہ ہے۔
(1) اس بندہ نے ایک یا دو صریح طلاق دی ہوں، تو عدت (تین ماہ واری، ورنہ تین ماہ، بشرطیکہ حاملہ نہ ہو، ورنہ عدت وضع حمل ہے) کے اندر رجوع کر سکتا ہے، دوبارہ نکاح کی ضرورت نہیں۔ اور عدت گزرنے کے بعد باہمی رضامندی سے دوبارہ شرعی طریقے سے نکاح کرنا پڑے گا۔
(2) اس نے تینوں طلاقیں ایک ساتھ دی ہوں، تو اس صورت میں نکاح بالکل ختم ہو گیا، اس کی بیوی حرمتِ مُغَلَّظہ کے ساتھ اس پر حرام ہو گئی۔ اب دوبارہ نکاح سے بھی حلال نہیں ہو گی، جب تک کہ شرعی طور پر حلالہ نہ ہو جائے۔ (شرعی حلالہ کی تفصیل آگے آ رہی ہے)
(3) اگر صریح الفاظ یعنی طلاق کے لفظ کے ساتھ طلاق نہ دی ہو بلکہ کنائی الفاظ یعنی گول مول الفاظ سے طلاق دی ہو، یا لفظ طلاق کے ساتھ شدت اور سختی کا اظہار کیا ہو، مثلاً: اس بیوی کو فارغ کرتا ہوں، یا اسے سخت طلاق دیتا ہوں، وغیرہ۔ اور ان الفاظ سے طلاق کی نیت بھی ہو تو اس سے فوراً دونوں کا نکاح ٹوٹ گیا، اب رجوع نہیں ہو سکتا، ہاں عدت کےاندر اور عدت کے بعد باہمی رضامندی سے نیا نکاح کر سکتے ہیں۔
فائدہ نمبر 1 تین طلاق کے بعد عورت اپنے خاوند پر حرام ہوجاتی ہے۔اب دوبارہ حلال ہونے کی صحیح صورت یہ ہے کہ وہ عورت اس خاوند کی عدت گزار کر کسی اور مرد سے شرعی طریقہ سے نکاح کرے۔ وہ دوسرا خاوند اس سے صحبت کرے ، صحبت کرنے کے بعد از خود اسے چھوڑ دےیا فوت ہوجائے۔ اب وہ عورت اس کی عدت مکمل کرے تو یہ عدت گزرتے ہی پہلے خاوند کے حق میں حلال ہوجائے گی۔حلال ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اب اگر باہمی رضامندی سے وہ دونوں شرع کے موافق نکاح کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں۔
فائدہ نمبر 2 دوسرے خاوند کا صحبت کرنا ضروری ہے ،البتہ انزال کرنا شرط نہیں۔اگر دوسرے خاوند نے محض نکاح کرکے صحبت کیے بغیر طلاق دے دی تو پہلے خاوند کے حق میں حلال نہ ہوگی۔
فائدہ نمبر 3 دوسرے خاوند سے نکاح کرتے وقت اگر یہ شرط لگادی گئی کہ وہ صحبت کرنے کے بعد چھوڑ دے گا تو اس شرط و اقرار کا کوئی اعتبار نہیں ۔اب اس کی مرضی ہے چھوڑے یا ساتھ رکھے یا جب جی چاہے چھوڑے ۔یاد رہے کہ اس طرح مشروط طریقے سے نکاح کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے طریقہ سے نکاح کرنے والوں پہ لعنت فرمائی ہے۔ لیکن اس مشروط نکاح کے باوجود دوسرے خاوند نے صحبت کرکے طلاق دے دی یا فوت ہوگیا تو عدت کے بعد پہلے خاوند کےلیے عورت بہر حال حلال ہوجائے گی۔
نوٹ نمبر1 شرعی طور پر نکاح باقی ہو تو بیوی کے ساتھ رہنا اور مکمل حقوق ادا کرنا حلال ہے، اگرچہ قانونی مجبوری کی وجہ سے کاغذی طور پر “گرل فرینڈ” لکھا جائے۔
نوٹ نمبر2 طلاق کنائی کے بعض الفاظ طلاق صریح کے حکم میں ہیں، اس لیے اگر کوئی ایسا لفظ ہوا تو حکم بدل جائے گا۔ لہٰذا احتیاطاً کسی صحیح العقیدہ، مستند عالمِ دین کو وہ تحریر دکھا کر تسلی کر لی جائے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved