- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
اللہ تعالیٰ کے فضل سے امید ہے کہ آپ بخیر وعافیت ہوں۔حضرت! ایک اشکال ہے کہ ہمارے ہاں اجتماعی ذکر بالجہر کیا جاتا ہے جس کی صورت یہ ہوتی ہےکہ شیخ طریقت اونچی آواز میں تسبیحات کا ذکر کرتے ہیں اور ان کے پیچھے پیچھے ان کے مریدین بھی یک زبان ہو ان تسبیحات کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔ اس بارے میں اکابرین دیوبند کی کیا رائے ہے؟بعض حضرات حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی یہ روایت پیش کر کے کہتے ہیں کہ اس روایت کی روشنی میں اس طرح کا ذکر کرنا درست نہیں ہے۔ روایت یہ ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا گزر مسجد میں بیٹھی ایک جماعت پر ہوا جو حلقہ بنا کر ذکر کر رہے تھے۔
آپ رضی اللہ عنہ نے ان سے مخاطب ہو کر پوچھا:
مَا هٰذَا الَّذِى أَرَاكُمْ تَصْنَعُونَ؟ قَالُوا: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ! حِصًى نَعُدُّ بِهِ التَّكْبِيرَ وَالتَّهْلِيلَ وَالتَّسْبِيحَ، قَالَ: فَعُدُّوا سَيِّئَاتِكُمْ فَأَنَا ضَامِنٌ أَنْ لَا يَضِيعَ مِنْ حَسَنَاتِكُمْ شَيْءٌ ، وَيْحَكُمْ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ! مَا أَسْرَعَ هَلَكَتَكُمْ، هٰؤُلَاءِ صَحَابَةُ نَبِيِّكُمْ – رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ – مُتَوَافِرُونَ، وَهٰذِهِ ثِيَابُهُ لَمْ تَبْلَ وَآنِيَتُهُ لَمْ تُكْسَرْ، وَالَّذِي نَفْسِي فِي يَدِهِ إِنَّكُمْ لَعَلَى مِلَّةٍ هِيَ أَهْدٰى مِنْ مِلَّةِ مُحَمَّدٍ، أَوْ مُفْتَتِحُوْا بَابِ ضَلاَلَةٍ، قَالُوْا: وَاللَّهِ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ! مَا أَرَدْنَا إِلَّا الْخَيْرَ، قَالَ: وَكَمْ مِنْ مُرِيدٍ لِلْخَيْرِ لَنْ يُصِيبَهُ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ – صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ – حَدَّثَنَا: أَنَّ قَوْماً يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، وَايْمُ اللَّهِ مَا أَدْرِى لَعَلَّ أَكْثَرَهُمْ مِنْكُمْ، ثُمَّ تَوَلَّى عَنْهُمْ.(سنن الدارمی: رقم الحدیث 211)
ترجمہ: تم لوگ یہ کیا کر رہے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: اے ابو عبد الرحمٰن (یہ حضرت عبد اللہ بن مسعود کی کنیت ہے) ہم کنکریوں پر اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ اور سبحان اللہ شمار کر رہے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم لوگ اپنے گناہ شمار کر لو تو میں ضمانت دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تمہاری نیکیوں میں سے کچھ بھی ضائع نہیں کرے گا۔ اے امتِ محمد! تمہارے لیے خرابی ہو! تم کتنی تیزی سے بربادی کی طرف جا رہے ہو۔ دیکھو! تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ صحابہ رضی اللہ عنہم کثرت سے موجود ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے ابھی تک بوسیدہ نہیں ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیرِ استعمال برتن ابھی تک نہیں ٹوٹے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! کیا تم ایسی طریقے پر ہو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے سے زیادہ ہدایت یافتہ ہے یا کہ تم لوگ گمراہی کے دروازے کھولنے والے ہو؟! انہوں نے کہا: اے ابو عبد الرحمٰن! اللہ کی قسم ہمارا ارادہ تو صرف خیر کا ہی تھا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کتنے لوگ ایسے ہیں جو خیر ہی کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن خیر سے محروم رہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ ارشاد فرمایا تھا کہ ”کچھ لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا“ اور اللہ کی قسم! مجھے نہیں پتا کہ شاید ان لوگوں میں اکثر تعداد تمہاری ہی ہو! یہ کہہ کر آپ رضی اللہ عنہ تشریف لے گئے۔
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس واقعہ کی روشنی میں کیا ذکر بالجہر ممنوع قرار پاتا ہے؟ اور کیا یہ روایت اس طرح کی مجلسِ ذکر میں شرکت سے مانع ہے؟ برائے مہربانی وضاحت فرما دیں! جزاکم الله خیراً
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
[۱]: ذکر بالجہر کا یہ طریقہ ہمارے مشائخ میں رائج ہے اور جائز ہے۔ اس کا مقصد تعلیمِ ذکر ہوتا ہے تاکہ مریدین وسالکین ذکر و شغل کا وہ طرز سیکھ لیں۔اس بارے میں حضرت مفتی محمد نظام الدین اعظمی رحمۃ اللہ علیہ (سابق صدر مفتی دار لافتاء دار العلوم دیوبند) کا یہ فتویٰ ملاحظہ فرمائیں جو انہوں نے اس قسم کے سوال کے جواب میں ارشاد فرمایا تھا۔ سوال وجواب دونوں ذکر کیے جاتے ہیں:سوال: بعض صوفیاء و مشائخ حلقہ کراتے ہیں جس کا طریقہ یہ ہے کہ ذاکرین شیخ کے پاس حلقہ بنا کر بیٹھ جاتے ہیں، پھر شیخ ذکر ”لا الہ الا اللہ“ کہتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سب ذاکرین ایک آواز سے ذکر کرتے ہیں، گاہ بگاہ وہ شیخ ان پر توجہ ڈالتا ہے جس کی وجہ سے ان کے اوپر ایک خاص حالت و کیفیت طاری ہوتی ہے۔ کیا اس طریقہ پر ذکر کرنا اور کرانا ثابت ہے؟ اگر سلف سے ثابت نہیں تو اس صورت میں ایسا کرنا مفید اور جائز ہے یا نہیں؟الجواب وباللہ التوفیق: اور اشغال و اذکار کی طرح یہ بھی ایک طریقہ ذکر وعلاج ہے، اس سے بھی ایسی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے جس کے ذریعے سے باری تعالیٰ عز اسمہ کی محبت مطلوبہ کی تحصیل آسان ہو، ذکر منفرداً ومجتمعاً خواہ سراً یا جہراً اور توجہ کا القاء ثابت و جائز ہے، اس لیے اس کا مجموعہ بھی جائز ثابت ہونے میں کلام نہ ہو گا، البتہ اس کو واجب یا سنت کہنا یا قرار دینا یا اسی میں حصر کرنا درست نہ ہو گا۔
پس اگر شیخ کامل جو مکائد نفس سے اور طریق اصلاح سے واقف ہو اور اس کی محبت مطلوبہ کی تحصیل کے لیے یہ طریقہ استعمال کرے تو کوئی وجہ اعتراض نہیں۔ رہ گیا ذکر منفرداً و مجتمعاً و القاء توجہ کا ثبوت تو اس کے لیے مندرجہ ذیل روایات بھی کافی ہیں [اس کے بعد مفتی صاحب نے چند روایات ذکر کی ہیں جن سے ذکر انفرادی، اجتماعی اور توجہ کاالقاء کرناثابت کیاہے](منتخبات نظام الفتاویٰ: ج3 ص437، 438 ناشر ایفا پبلیکشنز نئی دہلی)[۲]: حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے اثر کی وجہ سے اجتماعی ذکر بالجہر سے منع کرنا درست نہیں ہے۔ اس اثر کے متعلق محققین اکابرین امت کی تحقیق ملاحظہ ہو:(1): علامہ جلال الدین عبد الرحمٰن السیوطی الشافعی (ت911 ھ) فرماتے ہیں:
قلت: هذا الأثر عن ابن مسعود․․․ على تقدير ثبوته فهو معارض بالأحاديث الكثيرة الثابتة المتقدمة وهي مقدمة عليه عند التعارض.(الحاوی للفتاویٰ :ج1ص380 اسم الرسالۃ: نتیجۃ الفکر فی الجہر فی الذکر)
ترجمہ: میں (جلال الدین سیوطی) کہتا ہوں کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا اثر اگر ثابت بھی ہو تب بھی یہ بہت سی احادیث کے خلاف ہے جو پہلے ذکر کر دی گئی ہیں اور تعارض کے وقت وہ احادیث ہی مقدم ہوں گی۔
(2): علامہ ابو الحسنات محمد عبد الحئی لکھنوی (ت1304ھ) لکھتے ہیں:
وفی تعالیق الانوار حاشیۃ الدر المختار قولہ ورفع صوتہ بالذکر روی عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ انہ رأی قومایھللون برفع الاصوات فی المسجد فقال ما اراکم الا مبتدعین وامر باخراجہم لکن قال العلامۃ الحَفْنِی فی رسالۃ “فضل التسبیح والتھلیل”: ما نقل عن ابن مسعود غیر ثابت بدلیل ما فی کتاب الزہد بالسند الی ابی وائل انہ قال ھؤلاء الذین یزعمون ان عبد اللہ بن مسعود کان یَنْھَیٰ من الذکر ما جالستہ مجلسا الا ذکر اللہ ای جھر.(سباحۃ الفکر فی الجہر بالذکر :ص50)
ترجمہ: تعالیق الانوار حاشیہ درمختار میں ہے :قولہ مساجد میں اونچی آواز سے ذکر کرنا حرام ہے جیسا کہ روایت میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ کچھ لوگ مسجد میں اونچی آواز سے ذکر کررہے تھے تو انہو ں نے فرمایا: میں تو تمہیں بدعتی ہی سمجھتا ہوں اور ان کو مسجد سے نکلوادیا لیکن علامہ حفنی (محمد بن سالم بن احمد الحَفْنِی) اپنے رسالہ ”فضل التسبیح والتہلیل “ میں فرماتے ہیں کہ یہ جو حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل کیا جاتا ہے یہ ثا بت نہیں ہے دلیل اس کی یہ ہے کہ کتاب الزہدمیں سند کے ساتھ حضرت ابو وائل کا ارشاد منقو ل ہے کہ یہ لوگ جو گمان کر بیٹھے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ذکر سے منع کیا کرتے تھے (یہ صحیح نہیں کیونکہ) میں جب بھی کسی بھی مجلس میں ان کے ساتھ کہیں بیٹھا تو آپ رضی اللہ عنہ ہمیشہ ذکرکرتے تھے یعنی جہر کے ساتھ الخاس توجیہہ کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا انکار ذکر بالجہر پر نہیں تھا کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ تو خود اس کے قائل تھے بلکہ یہ انکار کسی اور وجہ سے تھا مثلاً افراط یا تفریط وغیرہ۔(3): شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی (ت1377ھ) اپنے مکتوبات میں اجتماعی ذکر کی تین احادیث مرفوعہ صحیحہ نقل کر کے
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس اثر کے متعلق یہ تحریر فرماتے ہیں:
”یہ روایات اور ان کے ہم معنی شیخین وغیرھما کی مرفوعات صحیحہ ہیں ان کے مقابلہ میں دار می کی وہ روایت جو آپ نے ذکر فرمائی ہے کیا حیثیت رکھتی ہے ؟جب کہ وہ موقوف ہے اس کے روات متفق علیہ نہیں ہیں اگرچہ ثقات ہیں، اس لیے اگر معارضہ کیا جائے گا تو احا دیث مذکورہ بالا ہی کو ترجیح ہو گی خصوصاً جب کہ اطلاقِ آیات ِذکر ان کی مؤید ہیں ”فَاذْكُرُوا اللّهَ قِيٰمًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰى جُنُوْبِكُمْ“ (سورۃ النساء) ، ” يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّهَ ذِكْرًا كَثِيْرًا وَّسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّأَصِيْلًا“ (الاحزاب) وغیرہ جن سے اجتماع اور انفراد سب کا ثبوت ہوتا ہے ۔ اور اگر کوئی صورت جمع کی نکالی جائے تو یہ کہنا ممکن ہے کہ کوئی چیز ہر دو صاحبوں نے اس جماعت میں ایسی مشاہدہ کی جو کہ زمانہ سعادت میں نہیں پائی گئی اور اس میں افراط تفریط کا شائبہ تھا ، اس بنا پر اس کو منع کیا ، نہ کہ نفس اجتماع بالذکر اور اس کی مباح کیفیات کو۔“(مکتوبات شیخ الاسلام :ج2 ص52)
(4): حضرت مولانا مفتی عبد الستار (رئیس دار الافتاء جامعہ خیر المدارس ملتان) اس اثر کی یہ توجیہہ لکھتے ہیں:
”حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا انکار کرنا کسی ہیئت خاصہ کی بناء پر تھا، نفس اجتماعی ذکر پر نہیں تھا۔ اجتماعی ذکر کی ایک شکل یہ ہے کہ سب ذاکرین قصداً آواز ملا کر ذکر کرنے کا التزام کریں، ایک کہلائے اور باقی مجمع اس کے پیچھے اسی کلمے کو دہرائے جیسے بچوں کو گنتی یا پہاڑے یاد کرائے جاتے ہیں۔ اجتماعی ذکر کی یہ دونوں صورتیں محل کلام ہیں اور تیسری شکل یہ ہے کہ ذاکرین ایک جگہ مجتمع ہوں اور سب اپنا اپنا ذکر کریں، کسی دوسرے کے ذکر کی طرف قطعاً متوجہ نہ ہوں، وقت محل کی وحدت کے اعتبار سے یہ اجتماعی ذکر ہے لیکن نفسِ ذکر کے لحاظ سے انفرادی ہے، یہ درست ہے۔ پس ممکن ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا انکار پہلی دوسری قسم کے بارے میں ہو، اس کا آپ نے وہاں مشاہدہ کیا ہو۔“(خیر الفتاویٰ: ج2 ص709)واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved