- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
دریافت یہ کرنا ہے کہ کسی انسان کی ملکیت میں جائیداد ہو، رقم ہو، یا گاڑی وغیرہ کوئی بھی چیز ہو تو اسے اپنی ان چیزوں کے تصرّف میں شرعاً کتنا اختیار حاصل ہوتا ہے؟ آیا کسی کی ممکوکہ چیز میں کسی اور کو تصرّف کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
ہر انسان اپنی زندگی میں اپنے مال و زر کا خود مالک و مختار ہوتا ہے، وہ اپنے مال میں جو بھی جائز تصرّف کرنا چاہے کرسکتا ہے۔ کوئی آدمی اپنے مال کو بیچے، کسی کو ہدیہ دے، یا کسی بھی نیک کام میں خرچ کرے اسے شریعت کی طرف پورا اختیار حاصل ہے۔کسی کے ذاتی مملوکہ مال میں اس کی اجازت کے بغیر کسی اور کو کسی قسم کے تصرّف کرنے کا حق حاصل نہیں ہوتا، یہی وجہ ہے کہ جب تک انسان زندہ رہے اس کےمال میں میراث جاری نہیں ہوتی، اس لیے اس کی زندگی میں اس کے مال میں کسی وارث کا کوئی حق نہیں ہوتا اور نہ ہی اولاد میں سے کوئی فرد اپنے حصے کا مطالبہ کر سکتاہے۔کیوں کہ وراثت کا تعلق اس مال کے ساتھ ہوتا ہے جو انسان اپنی موت کےوقت اپنی ملکیت میں چھوڑ جاتا ہے۔ اس مال میں شریعت نے حق داروں کے حصے مقرر کر دیے ہیں ، تجہیز و تکفین کے اخراجات، قرض کی ادائیگی اور ایک تہائی مال میں کسی جائز کام کی وصیت نافذ کرنے کے بعد جو مال باقی بچ جائے اس میں سے ہر وارث کو اس کا طے شدہ حصہ دینا ضروری ہوتا ہے، خواہ کسی کا دل چاہے یا نہ چاہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved