• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

دوسرے نکاح کے لیے پہلی بیوی کی رضامندی کی شرعی حیثیت

استفتاء

عرض یہ ہے کہ اگر شوہر بیوی سے دوسرے نکاح کے بارے میں رضا مندی چاہ رہا ہو یا ایک طرح کی اجازت چاہ رہا ہو اور بیوی منع کرے تو بیوی اللہ کے یہاں مسؤول ہو گی؟ شریعت میں تو بیوی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے مگر شوہر اور پہلی بیوی کے آپس کے تعلق کی بنا پر وہ اک اچھے ماحول کے ساتھ دوسرا نکاح کرنا چاہ رہا ہے اور بیوی کے لئے ظاہر ہے اس بات پر رضا مند ہونا بہت زیادہ مشکل ہے جبکہ آپس میں تعلق بہت اچھا ہے۔ تو ان حالات میں کیا کرنا چاہیے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

دوسرے نکاح کے لیے پہلی بیوی سے اجازت لینا شرعاً ضروری نہیں بلکہ اگر پہلی بیوی دوسرے نکاح میں رکاوٹ بنے تو عند اللہ مجرم شمار ہو گی۔ مرد کے لیے اللہ تعالیٰ نے چار نکاح کرنے کی اجازت دی ہے۔شرعاً جس چیز کی اجازت ہو تو اس میں رکاوٹ بننا کہاں جائز ہو سکتا ہے؟
البتہ ایک بات سمجھ لینی چاہیے کہ دوسرے نکاح کے لیے پہلی بیوی کی رضامندی کے بجائے اس کا اعتماد حاصل کرنا چاہیے۔ خاوند اور بیوی ایک عرصہ گزار چکے ہوتے ہیں۔ اب ایک نئی خاتون کی آمد سے پہلی بیوی کو صدمہ پہنچنا ایک لازمی امر ہے۔ اس صورتحال میں خاوند کو چاہیے کہ بیوی کو یہ یقین دہانی کرائے کہ دوسرا نکاح ہمارے تعلقات پر اثرانداز نہیں ہو گا۔میں جس طرح تمہارا خیال رکھتا آیا ہوں آئندہ زندگی میں بھی یہی سلوک جاری رکھوں گا۔ پھر خاوند کو حسنِ سلوک کا عملی مظاہرہ بھی کرنا چاہیے۔ نیز بیوی کو بھی چاہیے کہ اسے حکمِ خدا سمجھ کر راضی رہے۔ جب اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھے گی تو برداشت کرنا آسان ہو گا۔ یوں اعتماد اور مشیت خداوندی پر رضا کی فضا کے ساتھ دوسرا نکاح کیا جائے تو ان شاء اللہ گھریلو تعلقات میں رکاوٹ نہیں بنے گا اور زندگی بھی خوش وخرم گزرے گی۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved