- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
اگر ایک شخص دوسری شادی کرے تو اس کے لیے کن کن امور میں بیویوں کے درمیان برابری کرنا ضروری ہے؟ تفصیل سے آگاہ فرمائیں۔ شکریہ
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
دو بیویوں کے درمیان سب باشی (رات گزارنے)، نان و نفقہ، رہائش دینے اور میل ملاپ میں برابری ضروری ہے۔ اس لیے جتنی راتیں ایک کے پاس گزارے اتنی ہی راتیں دوسری کے پاس بھی گزارے جتنا خرچ ایک بیوی کو دیتا ہے دوسری کو بھی اتنا خرچ دے۔ (ہاں بچے کم یا زیادہ ہوں یا بچوں کی ضروریات میں فرق ہو تو اس میں تو کمی بیشی ہو سکتی ہے لیکن بیوی کا خرچ برابر ہو) دونوں کو الگ الگ کمرہ دیا جائے۔ اس میں کمرے کی ضروریات، کچن، باتھ روم موجود ہوں۔ میل ملاپ میں بھی دونوں کے درمیان برابری کا سلوک کرے۔ ایسا نہ ہو کہ ایک سے تو اچھا برتاؤ کرے اور دوسری سے برا۔
واضح رہے کہ رات گزارنے میں تو برابری ضروری ہے لیکن ہمبستری میں ضروری نہیں۔ اسی طرح سفر میں بھی برابری ضروری نہیں بلکہ جسے ساتھ لے جانا چاہے لے جا سکتا ہے البتہ بہتر یہ ہے کہ قرعہ اندازی کر کے جس کے نام کا قرعہ نکل آئے اسی کو سفر پر لے جائے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved