• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

کرامات؛ ولی کے اختیار میں ہوتی ہیں یا نہیں؟ راجح موقف

استفتاء

آج کل ہمارے ہاں خیبر پختونخواہ میں ہم مسلک علمائے کرام یعنی دیوبندی علماء کے درمیان ایک مسئلہ بڑے شور سے چل رہا ہے ۔ یہ مسئلہ کرامات کا ہے۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ جو یہ کہے کہ ”کرامات ولی کے اختیار میں ہوتی ہیں“ تو یہ بدعتی ہے، اور بعض علماء کہتے ہیں کہ ”ہمارے اکابرین علمائے دیوبند کے نزدیک بھی بعض کرامات ولی کے اختیار میں ہوتی ہے۔“آپ اس مسئلہ کی وضاحت فرما دیں کہ کیا بعض کرامات ولی کے اختیار میں ہوتی ہیں یا نہیں؟ نیز اکابرین دیوبند کا اصح قول اور صحیح موقف اس بارے میں کیا ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

صحیح قول یہی ہے کہ کرامت ؛ولی کے اختیار میں نہیں ہوتی بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا فعل ہوتا ہے جو ولی کے ہاتھ پر ظاہر ہوتا ہے۔ ولی کے اختیار کو اس میں کوئی دخل نہیں۔ مفتی محمد شفیع عثمانی (ت1396ھ) لکھتے ہیں:”معجزہ اور کرامت دونوں خود صاحبِ معجزہ و کرامت کے اختیار میں نہیں ہوتے۔“( )بعض مرتبہ کسی ولی کے ہاتھ پر کرامت کے ظہور سے پہلے اللہ تعالیٰ اسے الہام واطلاع فرما دیتے ہیں کہ تم یہ ارادہ کرو گے تو ہم تمہارے ہاتھ پر یہ خرقِ عادت فعل ظاہر کر دیں گے۔ وہ ولی اس فعل کا ارادہ کرتا ہے تو بموجبِ وعدۂ خداوندی اس ولی کے ہاتھ پر وہ فعل سر انجام پاتا ہے۔ اس عمل میں بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کرامت کے ظہور میں اس ولی کو اختیار حاصل ہے لیکن حقیقت میں یہ اختیارِ ولی نہیں بلکہ اس میں بھی اس اختیارِ خداوندی کارفرما ہوتا ہے۔ مفتی محمد شفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ آیت قرآنی ﴿أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَنْ يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ﴾  کی تفسیر میں حکیم الامت حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سےلکھتے ہیں:”کرامت ولی کے اختیار میں نہیں ہوتی … ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے ان کو [آصف بن برخیا کو] یہ اطلاع کر دی ہو کہ تم ارادہ کرو گے تو ہم یہ کام اتنی جلدی کر دیں گے۔ یہ تقریر حضرت سیدی حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہ کی ہے جو احکام القرآن میں سورۃ النمل کی تفسیر لکھتے وقت حضرت نے ارشاد فرمائی تھی۔“ ( )اکابرین کی اس توجیہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے خط سے دریائے نیل کا جاری ہونا، آپ رضی اللہ عنہ کے کوڑے سے زلزلہ سے متحرک زمین کا ساکن ہونا، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا بسم اللہ پڑھ کر زہر پینا اور موت کا واقعہ نہ ہونا وغیرہ جیسی کرامات بھی ان کے اختیار میں نہیں تھیں بلکہ ان میں بھی اللہ تعالیٰ کا اختیار تھا اور ان حضرات کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا تھا کہ یہ امور ہم تمہارے ہاتھ پر ظاہر کریں گے۔تو حق و صواب موقف یہی ہے کہ کرامت ولی کے اختیار میں نہیں ہوتی۔ ہاں! اللہ تعالیٰ بطورِ الہام ولی کو یہ بتا دیتے ہیں کہ تم یہ ارادہ کرو گے تو اس پر نتیجہ مرتب کرتے ہوئے باختیارِ خود ہم فلاں خرقِ عادت امر ظاہر فرما دیں گے۔ جب ولی ارادہ کرتا ہے تو من جانب اللہ وہ امر اس کے ہاتھ پر ظاہر ہو جاتا ہے۔ اسے اس بات سے تعبیر کرنا بالکل درست نہیں کہ کرامت ولی کے اختیار میں ہوتی ہے بلکہ اسے یوں بیان کرنا قرینِ انصاف و احتیاط ہے کہ ولی کے ہر ارادہ پر نتیجہ مرتب نہیں ہوتا (جیسا کہ یہ عام مشاہدہ ہے) بلکہ صرف اس ارادہ پر مرتب ہوتا ہے جس میں اختیارِ خداوندی شامل ہو۔ اس لیے اولیاء کے ہاتھ پر خوارق کا ظہور بھی باختیارِ خداوندی ہوتا ہے نہ کہ باختیارِ اولیاء۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved