- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
بعض لوگ کہتے ہیں کہ ”حنیفہ “امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی ایک صاحبزادی کا نام تھا۔ ان کی طرف نسبت کی وجہ سے امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ ”ابو حنیفہ“ کی کنیت سے مشہور ہوئے، کیا بات درست ہے؟ براہِ کرم اس کی حقیقت سے آگاہ فرمائیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
یہ بات بالکل غلط اور خلافِ واقعہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کا صرف ایک ہی بیٹا تھا جس کا نام حماد بن ابی حنیفہ رحمہما اللہ تھا، اس کے علاوہ آپ کی کوئی اولاد نہ تھی۔
علامہ محمد بن اسحاق بن ندیم(ت385ھ) اپنی کتاب ”الفہرست“ میں لکھتے ہیں:وَکَانَ لَہٗ مِنَ الْوَلَدِ حَمَّادٌ وَیُکَنّٰی أَبَا ٳِسْمَاعِیْلَ وَمَاتَ بِالْکُوْفَۃِ.الفہرست لابن ندیم: ص255
ترجمہ: آپ کی اولاد میں صرف حضرت حماد تھے جن کی کنیت ابو اسماعیل تھی، ان کا انتقال کوفہ میں ہوا۔امام شہاب الدین احمد بن حجر المکی الہیثمی (ت974ھ) لکھتے ہیں:لَایُعْلَمُ لَہٗ وَلَدٌ ؛ ذَکَرٌ وَلَا أُنْثیٰ غَیْرَ حَمَّادٍ.الخیرات الحسان فی مناقب الامام الاعظم ابی حنیفۃ النعمان: ص32
ترجمہ: آپ کی اولاد میں سوائے حماد رحمہ اللہ کے اور کسی بیٹے یا بیٹی کاہونامعلوم نہیں۔شیخ محمد قاسم بن عبدہ الحارثی فرماتے ہیں:لَایُعْلَمُ لِأَبِیْ حَنِیْفَۃَ وَلَدٌ غَیْرَ ابْنِہٖ حَمَّادٍ.مکانۃ الامام ابی حنیفۃ بین المحدثین للحارثی: ص39ترجمہ: امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا سوائے حماد کے کوئی بیٹا نہیں۔لہٰذا امام صاحب کی کنیت ”ابو حنیفہ“ وصفی کنیت ہے، نسبی نہیں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved