- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہگزارش ہے کہ کتاب ”فضائل اعمال“ میں فضائلِ ذکر کی حدیث نمبر 28 کے فائدہ میں حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے جب لغزش ہو گئی تھی تو انہوں نے اس کی توبہ میں 40 سال سجدہ میں گزار دیے تھے۔اس پر کسی نے سوال کیا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام چالیس سال سجدے کی حالت میں ہی رہے ہوں کیونکہ انسانی ضروریات (کھانا، پینا، سونا وغیرہ) کی تکمیل بھی تو زندگی کا حصہ ہے۔ برائے مہربانی جواب عنایت فرما کر ممنون فرمائیں !
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
کتاب ”فضائل اعمال“ میں کہیں بھی یہ بات مذکور نہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام نے چالیس سال سجدے کی حالت میں گزار دیے تھے بلکہ اس میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بات لکھی گئی ہے:”حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام اس قدر روئے ہیں کہ تمام دنیا کے آدمیوں کا رونا اگر جمع کیا جائے تو ان کے برابر نہیں ہو سکتا۔ چالیس برس تک سر اوپر نہیں اٹھایا۔“(فضائل ذکر: باب دوم ص601)حضرت آدم علیہ السلام اس عرصہ میں اپنی ضروریات کی تکمیل فرماتے رہے تھے البتہ اوپر آسمان کی طرف نظر اٹھا کے نہیں دیکھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا محلِ امر (جہاں سے احکامات کا صدور ہوتا ہے) اوپر ہے اور جنت بھی اوپر ہے جہاں آدم علیہ السلام پہلے قیام پذیر تھے۔ اس لئے لغزش کے صادر ہونے کے بعد غلبۂ شرم و حیا کی وجہ سے اوپر نظر نہیں اٹھائی۔ تو یہاں مطلقاً سر اوپر نہ اٹھانے کا ذکر ہے، سجدے سے سر نہ اٹھانا مراد نہیں ہے۔اس وضاحت وتفصیل کے بعد اشکال دور ہو جانا چاہیے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved