• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

قرآن سر پر رکھ کر کہا کہ ”فلاں کام کروں گا“ پھر نہ کیا تو کیا حکم ہے؟

استفتاء

عرض یہ ہے کہ ایک شخص نے قرآن سر پر رکھ کر کہا: ”میں یہ کام کروں گا“۔ پھر اگر وہ یہ کام نہ کرے یا منکر ہو جائے کہ میں یہ کام نہیں کروں گا! تو ایسے شخص کی شریعت نے کیا سزا تجویز کی ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اگر صرف قرآن سر پر رکھا اور زبان سے قسم کے الفاظ نہیں کہے مثلاً یہ نہیں کہا کہ ”میں قرآن کی قسم کھاتا ہوں“تو محض قرآن سر پر رکھنے کی صورت میں قسم منعقد نہیں ہوتی اور مذکورہ کام کرنا اس شخص کے ذمہ واجب نہیں ہوتا۔ اس لئے اگر یہ شخص وہ کام نہ کرے تو شرعاً اس پر کوئی گناہ نہیں۔
 فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
“وَأَمَّا رُكْنُ الْيَمِينِ بِاللَّهِ فَذِكْرُ اسْمِ اللّهِ أَوْ صِفَتِهِ.” ترجمہ: قسم منعقد ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ کا نام یا اللہ کی کسی صفت کا تذکرہ کیا جائے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved