• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

فرقہ پرویزیت سے تعلق رکھنے والے شخص کے ساتھ رشتہ داری کا حکم

استفتاء

مجھے ایک مسئلے میں شریعت کی روشنی میں آپ سے راہنمائی مطلوب ہے، مسئلہ یہ ہے کہ میرے سگے چچا (جو کہ میرے سسر بھی ہے) اور ان کے ایک بیٹے( جو کہ میرا برادر نسبتی ہے) یہ دونوں بد قسمتی سے “پرویزی” فرقہ میں چلے گئے ہیں ،ان کی چند باتیں اور عقیدے نمونہ کے طور پر عرض کرتا ہوں :
:1 میرے چچا کا کہنا یہ ہے کہ میں اس حقیقت تک پہنچ چکا ہو کہ ‘صلوٰۃ’ یعنی “نماز” قائم کی جانے والی چیز تو ہے لیکن پڑھی جانے والی نہیں ہے ۔ اس بات پر ان کے دوسرے بیٹے نے ان سے کہا کہ آپ کے مطابق اگر نماز پڑھی جانے والی نہیں تو پھر آپ نماز پڑھتے کیوں ہو؟ تو میرے چچا نے یہ جواب دیا کہ آپ لوگوں میں رہنے کے لیے، (میں پڑھ لیتا ہوں) ۔اسی دوران میں ان کی ایک “بہو” نے کہا کہ میرے باپ ،دادا نے تو کبھی پہلے نماز نہیں پڑھی، تو اس پر میرے چچا نے کہا کہ اچھا کیا جو نہیں پڑھتے تھے۔
:2 قربانی کے موقع پر میرے چچا کی ایک دوسری بیٹی نے کہا کہ آپ تو قربانی کو مانتے ہی نہیں تو آپ کاقربانی میں حصہ کیسا؟ اس پر میرے چچا نے کہا کہ گوشت تو کھائیں گے ۔
:3 میرے برادر نسبتی کا خانہ کعبہ کو بت کہنا اور نماز پڑھنے والوں کو یہ کہنا کہ یہ بت پوجتے ہیں ،روزہ کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ کیسی عبادت ہے کہ بندہ بھوکا پیاسا مر جائے ۔نیز نماز جنازہ، غسلِ واجب اور قربانی کا بھی انکار کرنا۔
:4 اس کے علاوہ ایک بات یہ بھی ہے کہ میرے چچا کے پاس میری سگی خالہ (جو کہ میری ساس بھی ہے ) سورت یٰسین کی تلاوت کر رہی تھی تو میرے چچا سورت یٰسین کی عربی عبارت کے بارے میں بھی یوں کہنے لگے کہ “یہاں ایسے نہیں ایسے ہونا چاہیے، مزید یہ کہنا کہ پہلی سورت “اقراء”نازل ہوئی لیکن قرآن پاک میں پہلی سورت کوئی اور ہے “۔جب میں نے ان مندرجہ بالا باتوں کےبارے میں ان سے پوچھا تو کہنے لگے کہ نماز،روزہ،حج،زکوٰۃ کے معنی میں اختلاف ہے یا تضاد ہے، خصوصا ً نماز کے بارے میں یوں کہا کہ قرآن میں جو صلوٰۃ قائم کرنے کا حکم ہے وہ صرف نماز پڑھنے سے ادا نہیں ہوتا، ہاں اگر کسی نے دل کی تسلّی کے لیے نماز پرھنی ہے تو پڑھ لے ۔
نوٹ: یہ چند ایک باتیں ان کے عقیدے اور نظریے کی عکاسی کرتی ہیں، جو میں نے نمونہ کے طور پر درج کی ہیں۔
جناب عالی ان درج بالا عبارات کی روشنی میں مجھے آپ سے چند سوالوں پہ فتویٰ درکار ہے ۔سوال نمبر1: کیا اس صورت میں میرے چچا اور برادر نسبتی دائرہ اسلام میں رہتے ہیں یا نہیں ؟سوال نمبر2: اگر دائرہ اسلام میں باقی نہیں رہتے تو پھر میری ان کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کیسی ہونی چاہیے؟ میرے چچا میرے سسر بھی ہیں اس لحاظ سے میری بیوی کےاپنے والد کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کیا ہونی چاہیے؟سوال نمبر3: میرے چچا یعنی سسر کے نکاح میں میری سگی خالہ ہے، آیا اس صوررت میں ان کا نکاح باقی رہا یا نہیں ؟سوال نمبر 4: میرے برادر نسبتی نے اپنے ان عقائد کے بعد ایک عام سنی بریلوی لڑکی سے دھوکے سے شادی کی ، آیا اس کا نکاح ٹھیک ہوا یا نہیں ؟جب کہ دینی تعلیم سے نا واقفیت کی بنا پر لڑکی کو بھی ان باتوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

پرویزی فرقہ غلام احمد پرویز کی طرف منسوب ہے۔ غلام احمد پرویز؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ کا منکر تھا۔ اس لیے پرویزی فرقہ کوفرقہ منکرینِ حدیث کہا جاتا ہے۔ پرویزی فرقہ کے چند گمراہ کن کفریہ عقائد تو سوال میں آپ نے درج کر دیے ہیں، ان کے علاوہ اور بھی ان کے کفریہ عقائد و نظریات ہیں، مثلاً:(1) حدیث عجمی سازش ہے۔(مقامِ حدیث: ج1 ص 421شائع کردہ، طلوع اسلام کراچی)(2) آج جو اسلام دنیا میں رائج ہے، اس کا قرآنی دین سے کوئی واسطہ نہیں۔(مقامِ حدیث: ج1 ص 391)(3) جنت اور جہنم کی کوئی حقیقت نہیں، یہ محض انسانی ذات کی کیفیات کے نام ہیں۔(لغات القرآن: ج1 ص449)(4) زکوٰۃ دین کا فریضہ اور اساس نہیں بلکہ ایک ٹیکس ہے جو حکومت مسلمانوں سے لیتی ہے۔(نظامِ ربوبیت: ص87)(5) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قرآن مجید کے سوا اور کوئی معجزہ نہیں۔(سلیم کے نام خط:ج 3 ص 36,91,92)(6) قرآنِ مجید میں جہاں پر اللہ اور رسول کا نام آیا ہے، اس سےمراد مرکز ملت ہے۔(اسلامی نظام: ص 86)
نمونہ کے طور پر یہ نقل کیے گئے ہیں، ایسے باطل عقائد اور بھی ہیں، جن کی تفصیل شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ (سابق مدیر جامعۃ بنوریہ عالمیہ، کراچی) کی کتاب ”ادیانِ باطلہ اور صراطِ مستقیم” میں موجود ہے۔پرویزی فرقہ کے باطل اور کفریہ عقائد و نظریات کی بنا پر امت مسلمہ کے جیّد علماء کرام نے متفقہ طور پر ان کو کافر قرار دیا ہے۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں:“پرویزیت (منکرینِ حدیث) کے بارے میں اہلِ فتاویٰ کی رائے”“محدّث العصر حضرت مولانا محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمانے پر مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی ولی حسن صاحب ٹونکی رحمہ اللہ تعالیٰ نے پرویزیت کے خلاف ایک فتویٰ لکھا، جس میں ان کے عقائد کو بھی واضح کر کے قرآن و احادیث اور کتب عقائد سے ایک ایک عقیدہ کا جواب دیا ہے، اور پھر اس فتویٰ کی تمام اہلِ اسلام کے ہر مسلک کے تقریباً 1050مشاہیر علماء تصدیق کی، کسی نے بھی ان کے کفر سے انکار نہیں کیا۔ “متفقہ فیصلہ” کے نام سے شائع ہو چکا ہے، جس میں عالَمِ اسلام کے تمام ہی مسلک والوں نے فرقہ پرویزیت کو کافر کہا ہے۔ “(ادیانِ باطلہ اور صراطِ مستقیم: ص 401 -بیت الاشاعت کراچی)
درج بالا تفصیل کی روشنی میں آپ کے سوالات کے جوابات بالترتیب حسبِ ذیل ہیں۔
(۱) آپ کے چچا(سسر) اور ان کےبیٹے ( آپ کے برادرِ نسبتی) پرویزی فرقہ سے وابستہ ہو کر ان کے باطل اور کفریہ عقائد اپنانے کی وجہ سے دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔(۲) آپ اور آپ کی اہلیہ کے لیے ضروری ہے کہ ان سے اپنا تعلق ختم کر دیں۔ ان کے ساتھ محبت اور اپنائیت کا اظہار کرنا اور دل میں ان کے لیے نرم گوشہ رکھنا جائز نہیں ہے۔ جو بندہ اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کا باغی ہو، ان کا وفادار نہ ہو، ان سے قربت اختیار کرنا ایمانی غیرت کے خلاف ہے۔(۳) آپ کی خالہ کے ساتھ نکاح ہونے کے وقت اگر آپ کے سسر صحیح العقیدہ سنّی مسلمان تھے، تب اس وقت نکاح ٹھیک ہو گیا، نکاح کےبعد جب انہوں نے کفریہ عقائد اختیار کیے تب نکاح ٹوٹ گیا۔ اگر نکاح کے وقت بھی وہ باطل عقائد کے حامل تھے تب یہ نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوا، گویا اس وقت سے اب تک وہ دونوں شوہر بیوی کی حیثیت کے بغیر ناجائز طریقے سے وقت گزار رہے ہیں، اس لیے اب ان کے درمیان شرعاً فی الفور علیحدگی لازم ہے۔(۴) آپ کے برادرِ نسبتی کے نکاح میں بھی وہی تفصیل ہے جو ان کے والد کے نکاح میں ہے۔ اگر نکاح کے وقت وہ باطل کفریہ عقائد کا حامل تھا تب تو نکاح منعقد ہی نہیں ہوا، اور اگر نکاح کے وقت صحیح العقیدہ مسلمان تھا تو اس وقت نکاح منعقد ہو گیا، بعد میں جب باطل عقائد اختیارکیے تب نکاح ختم ہو گیا۔ اب ان کا اکٹھے رہنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved