• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

مدرسہ میں رہائشی طلبہ نہ ہوں تو زکوٰۃ دے سکتے ہیں؟

استفتاء

ایک دینی مدرسہ ہے جس میں رہائشی طلبہ نہیں ہیں لیکن اس میں باقی انتظامات مکمل ہیں ، مثلاً: بجلی کا بِل ، اساتذہ کی تنخواہیں اور دیگر اخراجات وغیرہ۔ تو اس مدرسے میں زکوٰة دے سکتے ہیں یا نہیں؟ جب کہ مدرسہ کی ضروریات کافی ہیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

آپ نے جس مدرسہ کا ذکر کیا، اس کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اگر کوئی بندہ صدقات واجبہ(زکوۃ،عشر،فطرانہ وغیرہ) میں سے کچھ دینا چاہے تو درج ذیل دو صورتوں میں سے کوئی ایک صورت اختیار کی جا سکتی ہے دینا چاہے تو اس کی صورتیں ممکن ہیں۔
(1) مدرسہ سے متعلق کوئی ایسا شخص جو زکوٰۃ کا مستحق ہو خود صاحبِ نصاب نہ ہو، اسے زکوٰۃ کا مالک بنا دیا جائے، پھر وہ صاحب اپنی رضامندی اور خوشی سے وہ رقم مدرسہ پر خود خرچ کر دے یا منتظم کو جمع کرا دے۔
(2) مدرسہ سے متعلق کوئی حق دار آدمی کہیں سےرقم قرض لے کر اس مدرسہ کی ضروریات پر خرچ کردے، پھر زکوٰۃ کی رقم اس قرض دار کو مالک بنا کر دے دی جائے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاء مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved