• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

کیا موہوب لہ کے علم اور قبضہ کے بغیر ہبہ تام ہو جاتا ہے؟

استفتاء

جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ باباجان رحمہ اللہ کی رحلت کے بعد ہمارے گاؤں کی ایک متقی اور پرہیزگار بیوہ خاتون نے برلب سڑک زمین دارالعلوم عربیہ مظہر العلوم ڈاگئ کے لئے عطیہ کرکے اللہ کے نام پر وقف کردی ہے ، جس کے انتقال کے لگ بھگ دو سال بعد ان کے ایک بد بخت نے قبضہ کیا ۔شکر الحمدللہ کہ اللہ پاک نے 24 گھنٹے میں ہمیں قبضہ دلوایا اور ہم نے چاردیواری کرکے گیٹ لگا دیا، مگر پھر وہ خانگی تقسیم کے خلاف عدالت چلے گئےاور کیس 100% ان شاءاللہ ہمارے حق میں فیصلہ ہوگا کیونکہ ہمارا موقف شرعا ً اور قانوناً درست اور برحق ہے۔لیکن اس معاملے میں اب وراثت سے متعلق شریعت مطہرہ کے مطابق ایک فتوی ٰ چاہئے۔ اس بارے میں اپنے دارالافتاء کے فتویٰ کے ذریعے راہنمائی فرمائیں ، مسئلہ یہ ہے کہمذکورہ بیوہ خاتون ( جس نے اللہ کے نام پر اپنی زمین وقف کرے مظہر العلوم کو عطیہ کر دی ہے) کے شوہر حاجی عبدالودود صاحب مرحوم نے اپنی زندگی میں زمین کے ایک قطعہ کا انتقال بطور ھدیہ / گفٹ کیا تھا، مگر وہ بیچاری اَن پڑھ خاتون ہےان کو اس کا پتہ نہیں تھا کہ ان کے نام انتقال ہوچکا ہے ۔ ( نقل انتقال منسلک ہے )علماء کرام کے کہنے کے مطابق قانون اور شریعت کے مطابق کہ ” وراثت کا حصہ موت کے باقی اثاثوں کی تقسیم میں ہر وارث کو ملتا ہے”۔
لہٰذا پہلے سے انتقال شدہ زمین حاجی عبدالودود صاحب مرحوم کی جائیداد سے منہا ہوگی اور اس کے بعد باقی بچ جانے والی زمین میں ہر وارث کو شریعت کے مطابق اس کا حصہ ملےگا ۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ مذکورہ بیوہ خاتون کو پہلے سے انتقال شدہ زمین وراثت کی اپنے حصے سے اضافی ملے گی؟ اس سلسلے میں شریعت مطہرہ کی رو سے فتویٰ درکار ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

وراثت کی تقسیم سے قبل  یہ دیکھنا ضروری ہے کہ مرحوم عبد الودود مرحوم نے جو  قطعہ اراضی  بطور ہدیہ اپنی اہلیہ کے نام رجسٹرڈ کرایا  تھا، آیا شر یعت کی نظر میں وہ ہدیہ تام ہے یا نہیں؟ اور وہ زمین محض انتقال کے ذریعے مرحوم کی اہلیہ کی ملکیت  میں داخل ہوئی یا نہیں؟ 
اس کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ فقہاء کرام رحمہم اللہ کی تصریحات کے مطابق درست  اور مختار مذہب یہ ہے کہ   واہب (ہدیہ دینے والا)کی طرف سے ہدیہ کی جانے والی چیز موہوب لَہ(جسے ہدیہ دیا جائے) کی ملکیت میں تب داخل سمجھی جاتی ہے جب وہ مکمل طور پر اس کے قبضے میں آ جائے اور موہوب لَہ از خود یا   اپنے کسی وکیل کے ذریعے اس پر تصرف کرنے کا مجاز ہو جائے۔   اگر قبضہ نہ ہو اور اس پر تصرف کرنے کا اختیار نہ ہو تو ایسے ہدیہ کو شرعاً تام نہیں سمجھا جاتا بلکہ ناقص تصور کیا جاتا ہے، اور  ایسی صورت میں ہدیہ کی جانے والی چیز بہ دستور واہب کی ملکیت میں رہتی ہے۔  
فتاویٰ ہندیہ میں ہے: 
“لَا يَثْبُتُ الْمِلْكُ لِلْمَوْهُوبِ له إلَّا بِالْقَبْضِ هو الْمُخْتَارُ”
(فتاویٰ عالمگیری: ج4 ص422 الباب الثانی  فیما یجوز من الھبۃ وما لا یجوز )
ترجمہ:
قبضہ کے بغیر موہوب لہ کی ملکیت ثابت نہیں ہوتی، یہی مختار مذہب ہے۔ 
امام شمس الدين ابو بكر محمد بن احمد  السرخسی رحمہ اللہ (ت: 490 ھ) لکھتے ہیں: 
“ثم الملك لا يثبت في الهبة بالعقد قبل القبض عندنا”
(المبسوط للسرخسی: ج12 ص 57 دارالکتب العلمیہ)
ترجمہ:
پھر ہمارے(فقہاء احناف رحمہم اللہ کے) نزدیک  ہبہ کے اندر ملکیت قبضہ کرنے سے پہلے محض عقدِ ہبہ کرنے سے ثابت نہیں ہوتی۔  
مذکورہ عبارات سے واضح ہوا کہ مرحوم عبدالودود  نے اپنی اہلیہ کے نام جو زمین انتقال کرائی تھی وہ محض کاغذی کاروائی تھی ، اس میں قبضہ اور تصرف پر اختیار نہیں دیا گیا، بلکہ آپ کے بقول مرحوم کی اہلیہ کو اس ہبہ کا علم بھی نہ تھا۔     اس وجہ سے ہبہ تام نہیں ہوا،   لہٰذا مرحوم کی طرف سے ہبہ کی جانے والے یہ زمین بہ دستور مرحوم کی ملکیت میں باقی رہے گی اور یہ قطعہ اراضی  باقی ترکہ میں شامل ہو کر تمام ورثہ میں طے شدہ حصوں کے مطابق تقسیم ہو گا۔  
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء 
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved