• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

خون دینے کی شرعی حیثیت اور جہیز ،مہر کی شرعی حیثیت

استفتاء

1: غیر محرم مرد ،غیر محرم عورت کو خون دے سکتا ہے؟2: جہیز،مہر،زیور،ان کی شرعی حیثیت کیاہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1: انسانی جسم سے جب خون نکل جاتا ہے تو وہ ناپاک شمار ہوتا ہے اور کسی ناپاک چیز کا کسی دوسرے جسم میں انتقال جائز نہیں لیکن فقہاء کرام نے مجبوری کی حالت میں اس کی اجازت دی ہے۔ اور اس کو فقہاء کرام نے عورےت کے دودھ پر قیاس کیا ہے کہ جیسے وہ جسم سے نکلنے کی صورت میں استعمال درست نہیں لیکن بچہ کی پرورش اور نشوونما کے لیے مجبوراً درست ہے اسی طرح خون کا معاملہ ہے کہ فقہاء کرام نے چندصورتوں میں اس کی گنجائش دی ہے ۔ ایسی صورت میں غیر محرم کو خون دینے سے کوئی رشتہ قائم نہیں ہوگا بلکہ غیر محرم جیسے خون دینے سے پہلے غیر محرم تھا اب بھی وہ غیر محرم ہی رہےگا ۔ اسی طرح محرم کا حکم ہے۔
2: اگر والدین اپنی بیٹی کو رخصتی کے موقع پر کچھ دینا چاہے تو یہ شرعی طور پر ممنوع بھی نہیں، بلکہ یہ رحمت اور محبت کی علامت ہے لیکن جیسے ہمارے معاشرے میں جہیز کا لڑکے والے مطالبہ کرتے ہیں یا رسم کو پورا کرننے کے لیے سامان دیتے ہیں تو ایسی صورت میں لڑکے والوں کے لیے ایسا جہیز لینا ناجائز ہے۔
البتہ اگر جہیز والدین نے بچی کے حوالہ کر دیا ہے تو اس جہیز کی مالک صرف بچی ہی ہوگی اور اس بچی کی اجازت کے بغیر جہیز کے سامان کو لڑکے والوں کے لیے استعمال کرنا حلال نہیں ہوگا۔
عن عائشة -رضي اﷲ عنها- أن رسول اﷲ ﷺ قال: إن أعظم النکاح برکةً أیسره مؤنةً‘‘.

(مسند أحمد بن حنبل ج6ص86، رقم الحدیث: 25034)ترجمہ: حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :سب سے زیادہ برکت والا نکاح وہ ہے کہ جس میں خرچ کم ہو۔” عن علي، رضي الله عنه قال: «جهز رسول الله صلى الله عليه وسلم فاطمة في خميل وقربة ووسادة حشوها إذخر»” سنن النسائی ۔ج1ص136ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی صاحب زادی فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کو جہیز کے طور پر” ایک پلو دار چادر، ایک مشکیزہ، ایک تکیہ جس میں اذخر گھاس بھری ہوئی تھی”دی
اس کی تشریح کرتے ہوئے حضرت مولانا منظور نعمانی صاحب مدظلہ فرماتے ہیں:
”اکثر اہلِ علم اس حدیث کا یہی مطلب سمجھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ چیزیں اپنی صاحب زادی کے نکاح کے موقع پر جہیز کے طور پر دی تھیں، لیکن تحقیقی بات یہ ہے کہ اس زمانہ میں عرب میں نکاح شادی کے موقع پر لڑکی کو جہیزکے طور پر کچھ سامان دینے کا رواج، بلکہ تصور بھی نہیں تھا۔ اور جہیز کا لفظ بھی استعمال نہیں ہوتا تھا۔ سیدہ فاطمہؓ کے علاوہ دوسری صاحب زادیوں کے نکاح کے سلسلہ میں کہیں کسی قسم کے جہیز کا ذکر نہیں آیا۔ رہی بات حدیث کے لفظ ’’جهّز‘‘ کا مطلب، تو اس کے معنی اصطلاحی جہیز دینے کے نہیں، بلکہ ضرورت کا انتظام اور بندوبست کرنے کے ہیں، حضرت فاطمہ ؓ کے لیے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان چیزوں کاانتظام حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سرپرست ہونے کی حیثیت سے ان ہی کی طرف سے اور ان ہی کے پیسوں سے کیا تھا؛ کیوں کہ یہ ضروری چیزیں ان کے گھرمیں نہیں تھیں، روایات سے اس کی پوری تفصیل معلوم ہوجاتی ہے، بہرحال یہ اصطلاحی جہیز نہیں تھا‘‘۔(معارف الحدیث۔ج7ص660 )
واضح رہے کہ عورت کی شادی کے موقع پر مہر دیا جاتا ہے اور یہ مہر بیوی کا حق ہے اور یہ مہر اس عورت کی برابر کی لڑکیوں کے مہر کے برابر ہونا چاہیے۔ البتہ مہر کی کم سے کم مقدار دس درہم ہےاور یہ موجودہ گرام کے حساب سے تیس گرام چھ سو اٹھارہ ملی گرام چاندی ہوتی ہے۔عن جابر، أن رسول اﷲ صلی اﷲ علیه وسلم قال: لاصداق دون عشرة دراهم(سنن الدار قطنی۔ کتاب النکاح،ج3ص173، رقم الحدیث:3560)
ترجمہ: حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ مہر کی کم از کم مقدار دس درہم ہے ۔
عام طور پر شادی کے موقع پر والدین اپنی بچی کو یا لڑکے والے نکاح کے موقع پر مہر کے علاوہ کچھ زیورات وغیرہ دیتے ہیں یہ فضول خرچی میں شمار کیا جاتا ہے لہذا اس سے اجتناب کیا جائے بلکہ نکاح اور رخصتی کا معاملہ بالکل سادہ اور آسان ہو نا چاہیے جیسے شریعت مطہرہ نے اس کو آسان بنایا ہے ۔ہاں اگر والدین اپنی خوشی سے یا سسرال والے اپنی خوشی سے بچی کو کچھ بنا کر دیتے ہیں مثلاً انگوٹھی یا ہا ر وغیرہ تو اس کی گنجائش ہے لیکن شادی کے موقع پر اس کو طے کرنا اور اسی طرح اس کی مقدار وغیرہ طے کرنا درست نہیں بلکہ یہ اسراف میں شمار ہو گا ۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved