• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

کیا یہ نعتیہ کلام بانی دارالعلوم دیوبند کا ہے؟

استفتاء

دو باتوں کی وضاحت مطلوب ہے :
1: ایک نعت پاک ہے جو حجۃ الاسلام، مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃﷲ علیہ کی طرف منسوب کی جاتی ہے، جس کے ابتدائی الفاظ یہ ہیں:سب سے پہلے مشیت کے انوار سے، نقشِ روئے محمد بنایا گیاپھر اسی نقش سے مانگ کر روشنی، بزمِ کون و مکاں کو سجایا گیااگر واقعتاً یہ کلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ کا لکھا ہوا ہے تو اس پر کوئی معتبر حوالہ دے دیجیے۔

2: حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے جو اپنی کتاب (نشر الطیب) میں مصنّف عبدالرزاق کے حوالے سے لکھا ہے کہ سب اشیاء سے پہلے اولین تخلیق نُور محمدی ہے، یہ بات درست ہے یا نہیں؟ براہِ کرم ان باتوں کی وضاحت فرما دیجیے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

عام طور پر یہی مشہور ہے کہ یہ نعتیہ کلام قاسم العلوم والخیرات حجۃ اللہ فی الارض مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ کا ہے،مگر ہماری معلومات کے مطابق  یہ  نعت حضرت رحمہ اللہ کی نہیں ،  بلکہ پروفیسر جناب کرم حیدری صاحب مرحوم  (ت:1994 ء)کی لکھی ہوئی  ہے، اس لیے اس کا انتساب حضرت رحمہ اللہ کی طرف کرنا درست نہیں۔ اس کا ایک واضح قرینہ یہ بھی ہے کہ اس نعت کے آخری مصرع  کو ” حشر کا غم مجھے کس لیے ہو کرم  ” لکھا جائے تو یہ  وزنِ شعری پر پورا  اترتا ہے، اگر “کرم” کے بجائے  “قاسم”  لکھا جائے تو وزن بالکل ٹوٹ جاتا ہے۔ 
(2) حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ  نے اسی صفحہ کے حاشیہ میں یہ بات واضح فرما دی ہے کہ نورِ محمدی سے مراد روحِ محمدی ہے، اس لیے اب اشکال والی کوئی بات ہی نہیں۔ آپ رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں۔
” اور اس وقت ظاہر ہے آپ کا بدن تو بنا ہی نہ تھاپھر نبوت کی صفت آپ کی روح کو عطا ہوئی تھی اور نورِ محمدی اسی روحِ محمد کا نام ہے جیسا اوپر مذکور ہوا”۔ (صلی اللہ علیہ وسلم)
(نشر الطیب: ص6 حاشیہ 2) 
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء 
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved