• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

گِرگِٹ کو مارنے کا حکم

استفتاء

گِرگِٹ کو مارنا درست ہے یا نہیں؟ بعض علماء کہتے ہیں کہ آپ جہاں کہیں بھی گرگٹ کو دیکھو تو اسے فوراً مار ڈالو! اسلام اس کے بارے میں کیا کہتا ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

حدیث مبارک میں گرگٹ  اسے مارنے کا حکم آیا ہے۔ اس حوالے سے درج ذیل احادیث ملاحظہ ہوں:
[۱]: عَنْ أُمِّ شَرِيكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْوَزَغِ وَقَالَ: “كَانَ يَنْفُخُ عَلٰى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ.” 
ترجمہ:  حضرت ام شریک رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وزغ (یعنی چھپکلی اور گرگٹ)  کو قتل کرنے کا حکم دیا اور یہ ارشاد فرمایا کہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے جلائی گئی آگ میں پھونکیں مارتی تھی۔
[۲]: عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيْهِ رَضِىَ اللّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْوَزَغِ وَسَمَّاهُ فُوَيْسِقًا. 
ترجمہ:حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وزغ  (یعنی چھپکلی اور گرگٹ)  کو قتل کرنے کا حکم فرمایا اور اسے موذی جانور قرار دیا۔
[۳]: عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ رَضِىَ اللّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولُ اللّهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:”مَنْ قَتَلَ وَزَغَةً بِالضَّرْبَةِ الْاُوْلٰى کَانَ لَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً ، فَإِنْ قَتَلَهَا فِى الضَّرْبَةِ الثَّانِيَةِ کَانَ لَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً ، فَإِنْ قَتَلَهَا فِى الضَّرْبَةِ الثَّالِثَةِ کَانَ لَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً” 
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  جو شخص چھپکلی یا گرگٹ  کو پہلی چوٹ میں مارے گا تو اسے اتنا ثواب ملے گا۔  اگر اسے دوسری چوٹ میں مارے گا  تو اسے اتنا ثواب ملے گا اور اگر اسے تیسری چوٹ میں مارے گا  تو اسے اتنا ثواب ملے گا۔
ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ چھپکلی اور گرگٹ کو مارنے کا حکم حدیث پاک میں موجود ہے۔ اس لیے اسے پاتے ہی مار دینا چاہیے۔  نیز اسے مارنے کی وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ یہ ایک موذی جانور ہے جو انسانوں کو تکلیف دیتا ہے۔ باقی رہا پہلی حدیث میں یہ تذکرہ کہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے جلائی گئی آگ میں پھونک مارتا تھا تو یہ اس جانور کی خباثت کا ذکر ہے، یہ اس  جانور کو مارنے کی وجہ اور علت نہیں۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء 
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved