- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک آدمی جو کبھی کبھار شراب پیتا ہے، اس کی آمدن حلال ہے، کیا اسے قربانی میں شریک کر سکتے ہیں یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
شخص مذکور پہ لازم ہےکہ اپنے اس گناہ پہ نادم ہو کر صدقِ دل سے توبہ کرے۔ حلال کمائی کے ساتھ ساتھ اگر ان کا عقیدہ درست ہو تو انہیں شریک کر سکتے ہیں۔یاد رکھیے کہ قربانی کے صحیح ہونے کے لیے درج ذیل باتوں کا پایا جانا ضروری ہے۔1 شرکاء میں سے ہر ایک کا عقیدہ ٹھیک ہو۔2 ہر ایک شریک کا حصہ حلال کمائی سے ہو۔3 قربانی سے ہر ایک شریک کی غرض اللہ تعالیٰ کی رِضا کا حصول ہو۔لہٰذا اگر کسی بھی ایک شریک کا عقیدہ درست نہ ہوا، یا اس کی کمائی حلال کی نہ ہوئی یا قربانی سے اللہ تعالیٰ کی رضا کے بجائے اس کا مقصد ریا کاری یا گوشت کھانا ہوا تو سب شرکاء کی قربانی نہیں ہو گی۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved