- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک بندہ ہے وہ اپنے والد صاحب کے ساتھ رہتا ہے ان کے مال میں اکثر حرام کمائی آتی ہے، وہ بندہ اس سے بہت دکھی ہے، وہ خود کوئی کام نہیں کر سکتا کیوں کہ اس کا والد اس کو کچھ کرنے کے لیے جانے ہی نہیں دیتا۔ اگر وہ اپنی مرضی سے چلا گیا تو اس کے گھر میں اس کا والد جھگڑا شروع کر دیتا ہے اور یہ چیز اس کی والدہ کو برداشت نہیں ہوتی۔ اکثر اس اختلاف کی وجہ سے گھر کا ماحول بہت سنگین حالت اختیار کر لیتا ہے، اس لیے وہ بندہ کافی پریشان ہے کہ اب وہ کرے تو کیا کرے؟ حضرت اس معاملے میں تھوڑی راہنمائی فرمائیں…. جزاکم اللہ خیراً۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اپنے اس دوست سے کہیں کہ درج ذیل ہدایات پر عمل کرے ، اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور فضل سے بگڑے حالات سدھار دیں گے۔(1) کسی بھی معاملے میں حد سے تجاوز نہ کرے، جس موقع پہ اللہ تعالیٰ یا مخلوق میں سے کسی کا کوئی حق اس کے ذمہ ہو تو اسے اعتدال کے ساتھ پورا کرے، کیوں کہ شریعت مبارکہ نے ہمیں ہر حال میں اعتدال کی تعلیم دی ہے، افراط اور تفریط سے بچنے کا حکم دیا ہے۔(2) والدین کی تعظیم و توقیر ہر حال میں ضروری ہے، اس لیے ان کےساتھ حُسن سلوک اور حُسنِ اخلاق سے پیش آئیں۔ اب تک جو بد اخلاقی ہو چکی اس پر ان سے صدقِ دل سے معافی مانگیں اور آئندہ ہر قسم کی بد اخلاقی، بد زبانی اور بد سلوکی سے اجتناب کریں۔(3) جو بات والدین سے کہنی یا سمجھانی ہو تو ادب و احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے عاجزی کے ساتھ انتہائی نرم اور محبت بھرے انداز میں گوش گزار کریں، ان کے سامنے اپنی آواز ہمیشہ پست رکھیں۔ ترش روئی اور سخت لب و لہجے سے پرہیز کریں۔ خصوصاً تلخ کلامی کی تو کسی صورت اجازت نہیں ہے۔(4) اپنے والد کو محبت سے حرام آمدنی سے بچنے کی ترغیب دیں۔ بد زبانی اور تلخ کلامی کسی مسئلے کا حل نہیں، بلکہ اس سے دوری اور نفرت جنم لیتے ہیں۔ بس پیار کے ساتھ ان سے گزارش کریں، اگر وہ مان لیں تو بہت اچھا، ورنہ آپ کی ذمہ داری پوری ہوئی، اب ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ پہ چھوڑ دیں۔(5) جب تک حلال روزگار کا انتظام نہیں ہوجاتا تب تک اس مجبوری کی حالت میں آپ اپنے والد کی کمائی سے گھر میں کھاتے پیتے رہیں اور ساتھ ساتھ استغفار بھی کثرت سے کرتے رہیں۔ اس کا وبال آپ پر نہیں ہو گا کیوں کہ یہ گھر کے سربراہ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے اہلِ خانہ کو رزقِ حلال فراہم کرے۔(6) دلوں کی حالت و کیفیت کو تبدیل کرنا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، اس لیے روزانہ دو رکعت صلوٰۃ الحاجۃ پڑھ کر ان کی ہدایت کے لیے گڑگڑا کر ان الفاظ میں دعا کیا کریں کہ: “اے دلوں کو پھیرنے والے اللہ! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے”۔ ان شاء اللہ اس دعا کی برکت سے ضرور ان کے قلب کی اصلاح ہو جائے گی۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved