- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
حضرت جی! کیا کوئی مرد یا عورت اپنے طور پر گھر میں اہل خانہ کو جمع کر کے ذکر کی مجلس کوئی دن متعین کرکے لگا سکتا ہے۔ اگرایسا ہو سکتا ہے تو اس کی کیا صورت ہونی چاہیے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
گھر میں مجلسِ ذکر کا ہونا اچھی بات ہے۔ اس سے اللہ تعالیٰ کے مبارک ذکر کی برکات و انوارات بھی حاصل ہوں گےاور اہل خانہ میں ذکر کا شوق بھی پیدا ہو گا۔ اس کے لیے حسبِ ذیل طریقہ اختیار کریں۔(1) جس شیخِ طریقت سے آپ کا اصلاحی تعلق ہے، ان کی اجازت اور ہدایت کے مطابق شروع کریں۔(2) گھر میں مَحرم خواتین کو سامنے بٹھا سکتے ہیں، غیر مَحرم خواتین کو سامنے بٹھانا جائز نہیں، ان کے لیے الگ باپردہ جگہ کا انتظام ہونا ضروری ہے۔(3) اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ خواتین کی آواز بس ضرورت کی حد تک بلند ہو ۔ اس قدر بلند آواز کہ کوئی غیر محرم مرد سن لے یہ جائز نہیں۔(4) ذکر کی مجلس میں کوئی ایسا کام یا کوئی ایسی حرکت ہرگز نہ کی جائے جو شریعت کی نظر میں ناجائز یا ناپسندیدہ ہو۔ کیوں کہ کسی بھی عمل میں اعتدال شریعت کو مطلوب ہے، اس لیے اس عمل میں بھی حدِّ اعتدال کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔(5) وقتاً فوقتاً اپنے حالات و واقعات سے اپنے متدیّن مصلح اور شیخِ طریقت کو آگاہ کرتے رہیں، اور ان کی طرف سے ملنے والی ہدایات پر عمل کرتے رہیں۔(6) اللہ تعالیٰ کا ذکر تو ہر آن ہر گھڑی کرتے رہنا چاہیے، اور یہی مؤمن کی شان ہے۔ اوقات متعین کرنے سے صرف یہ مقصد ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے معمولات کی پابندی کرنےاور سیکھنے سکھانے میں سہولت رہتی ہے۔ جیسے دینی مدارس اور سکولز ، کالجز میں تعلیمی اوقات متعین ہوتے ہیں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved