- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
میرے علم میں یہ بات آئی ہے کہ امام نسائی رحمہ اللہ نے حضرت علی المرتضیٰ کے فضائل پہ”کتاب الخصائص” کے نام سے ایک کتاب لکھی تھی جو آپ نے دمشق کی جامع مسجد میں لوگوں کو سنائی تو انہوں نے کہا ہمیں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل سنائیے، تو آپ خاموش ہو گئے۔ جس کی وجہ سے لوگوں نے ان پر تشیع کا الزام لگایا اور سخت تشدد کا نشانہ بنایا، آپ سخت مجروح ہوئے ، اس حالت میں آپ کو مکہ مکرمہ لے جایا گیا اوریہی واقعہ آپ کی وفات کا سبب بنا۔
دریافت یہ کرنا ہے کہ امام نسائی رحمہ اللہ کے بارے میں یہ واقعہ ثابت ہے یا نہیں؟ اگر ثابت ہے تو اس بنیاد پر بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ تشیّع کی طرف میلان رکھتے تھے ، کیا واقعی امام موصوف اہلِ تشیع تھے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
یہ واقعہ شاہ عبد العزیز محدّث دہلوی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ” بستان المحدّثین” میں نقل فرمایا ہے، اس کے علاوہ چند دیگر کتب میں بھی موجود ہے۔ امام ابوعبدالرحمٰن احمد بن شعیب النسائی رحمہ اللہ (ت: 303ھ) اہل السنت کے مایہ ناز محدّث اور جلیل القدر شخصیت تھے، اس لیے محض اس واقعہ کو بنیاد بنا کر امام نسائی رحمہ اللہ کی طرف تشیع کی نسبت کرنا درست نہیں ہے۔ باقی امام نسائی رحمہ اللہ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل بیان کرنے سے سکوت اختیار کیا تھا اس کی وجہ یہ تھی تاکہ لوگوں کے دِلوں سے ناصبیت کے اثراتِ بد زائل ہو جائیں، کیوں کہ اس دور میں لوگ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب بیان کرنے میں حدِّ اعتدال میں نہیں رہتے تھے بلکہ غلوّ کرتے ہوئے شانِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی آڑ میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی شان میں تنقیص کرتے تھے۔ ان لوگوں کے اس غلط طرزِ عمل کی اصلاح کرنے کی غرض سے آپ نے تنبیہاً خاموشی اختیار کی ، تاکہ انہیں اپنی غلطی کا احساس ہو جائے۔ مگر وہ لوگ بجائے سمجھنے کے آپ کے مخالف بن گئے اورانتہائی تشدد پر اتر آئے، جو بعد میں جان لیوا ثابت ہوا۔ اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو، آمین۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved