• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

کیا بیٹی کی شادی پر خرچ کی گئی رقم میراث شمار ہو گی؟

استفتاء

مسٔلہ یہ ہے کہ باپ کی وراثت میں بیٹی کو حصہ ملے گا یا نہیں ؟
اس وقت جب کہ باپ بڑی محنت کرکے اور بہت سارا مال خرچ کرکے مثلاً دس لاکھ خرچ کرکے اپنی بیٹی کی شادی کی تو اب کیا شادی کا سارا خرچ بیٹی کی وراثت میں سے سمجھا جائے گا یا نہیں؟ اور لڑکی کے بھائی اور باپ مل کر سب یہی کہہ رہے ہیں کہ ہم نے تیری شادی دس لاکھ خرچ کرکے کی ہے، لہٰذا اب تجھے میراث میں سے کوئی حصہ نہیں ملے گا، ان کی یہ بات شرعاً کس حد تک درست ہے؟ جواب مرحمت فرمائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

میراث اس مال کو کہا جاتا ہے جو مرنے والے کی موت کے وقت اس کی ملکیت میں ہو اور اس کے ساتھ کسی غیر کا حق متعلق نہ ہو۔ موت سے پہلے جتنا بھی مال ہو اسے میراث نہیں کہا جاتا ، شریعت کی طرف سے ہر صاحبِ مال کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہےکہ وہ اپنی مرضی سے اپنے مملوکہ مال میں جو جائز تصرّف کرنا چاہے کر سکتا ہے،لہٰذا اپنی زندگی میں والدین اپنی اولاد پر جتنا مال بھی خرچ کریں اسے احسان اور تعاون کہا جائے گا، میراث نہیں کہا جائے گا۔شریعت مبارکہ کی واضح تعلیمات ہیں کہ اپنے اخراجات میں میانہ روی رکھو، فضول خرچی سے اجتناب کرو، ساد گی اختیار کرو، دکھلاوے، نمود و نمائش اور ریا کاری سے دور رہو، مگر اکثر لوگ لایعنی اور گناہ کے کاموں میں بے بہا پیسہ لٹا دیتے ہیں لیکن جب حق داروں کو شرعی حق دینے کی نوبت آتی ہے تو بخل سے کام لیتے ہیں۔عجیب بات یہ ہے کہ شادی کے مواقع پہ شریعت مبارکہ نے سادگی اختیار کرنے اور کم خرچ کرنے کی ہدایت کی ہے مگر وہاں پر دس لاکھ تک اڑا دیے گئے، اور یہاں میراث میں شریعت بیٹی کو بیٹے کے مقابلے میں کم (نصف) حصہ دینے کا حکم دیتی ہے تو یہ گراں گزرتا ہے۔جہیز کے نام پہ جتنا مال بھی خرچ کیا جائے وہ میراث کا متبادل ہرگز نہیں، لہٰذا والدین کی وفات کے بعد اگر ان کا ترکہ موجود ہوا تو دیگر ورثہ کی طرح یہ بیٹی بھی میراث کی حق دار ہو گی، جہیز یا دیگر اخراجات کی مد میں اسے میراث میں سے حصہ نہ دیناحرام ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved