- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
میرا سوال یہ ہے کہ کیا شوہر بیوی سے زبردستی ملاپ کر سکتاہے؟ میں نے سنا ہے کہ اگر بیوی بغیر کسی شرعی مجبوری کے صحت مند ہونے کے باوجود شوہر کے بلانے پر اس کے پاس نہ جائے تو گناہ گار تو ہوگی مگر شوہر اس کے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتا۔کیا یہ بات صحیح ہے؟اگر بیوی نے کسی دن معمول سے زیادہ کام کیا ہو اور حد سے زیادہ تھک گئی ہو تو کیا وہ صحبت سے منع کر سکتی ہے؟ کون سے عذر ایسے ہیں جن میں عورت صحبت سے انکار کرے تو گناہ گار نہ ہوگی۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اس حوالے سے چند باتیں ہمیشہ یاد رکھیں۔
(1) خاوند بیوی کا رشتہ بہت پاکیزہ اور حساس ہوتا ہے۔ بہترین اور خوش گوار ازدواجی زندگی کے لیے ضابطہ اور رابطہ دونوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ ضابطہ کا مطلب ہے شریعت کی طرف سے مقرر شدہ حقوق ادا کیے جائیں، اور رابطہ کا مطلب ہے حقوق اور ضروریات کی ادائیگی کے ساتھ باہمی جذبات و احساسات کا لحاظ رکھا جائے۔ محض اپنی ضروریات کو ترجیح دینےاور دوسرے شریک کونظر انداز کرنے سےمنفی اثرات پڑتے ہیں، جس کی وجہ سے ازدواجی زندگی کو کامیاب اور خوش گوار طریقے سے بسر کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔
(2) شریعت مطہرہ نے بیوی کو اس بات کا پابند کیا ہے کہ خاوند جب بھی جسمانی خواہش کی تکمیل کے لیے اسے بلائے تو وہ خوش دلی سے آمادہ ہو، خاوند کی جنسی ضرورت کی تکمیل میں اس کا مکمل ساتھ دے، بلا وجہ انکار نہ کرے اور نہ ہی کوئی بہانہ تراشے۔ لہٰذا اگر کوئی بیوی خاوند کے بلانے پر کسی شرعی یا طبعی عذر کے بغیر انکار کرے یا بہانہ بنائے تو وہ گناہ گار ہونے کے ساتھ ملائکہ کی لعنت کا شکار ہو گی ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ ارشاد گرامی روایت فرماتے ہیں:
“إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَأَبَتْ فَبَاتَ غَضْبَانَ عَلَيْهَا لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ”(صحیح البخاری، حدیث نمبر:3237)
ترجمہ: جب (کوئی) شوہر اپنی بیوی کو ہمبستری کے لیے بلائے اور وہ نہ جائے، خاوند (اس وجہ سے) ناراضی اور غصہ کی حالت میں رات گزار دے تو صبح تک فرشتے اس عورت پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔(3) عورت کسی شرعی یا طبعی عذر کی وجہ سے انکار کر دے تو اس صورت میں وعید کی مستحق نہ ہو گی۔ شرعی اور طبعی عذر کی چند صورتیں درج ذیل ہیں۔:1 عورت اپنے مخصوص ایام میں ہو ۔:2 خاوند اعتدال سے زیادہ صحبت کرتا ہو اور عورت کی صحت اس کی متحمل نہ ہو۔:3 عورت جسمانی طور پر اس قدر بیمار ہو کہ صحبت سے ناقابلِ برداشت تکلیف ہوتی ہو۔:4 خاوند غیر فطری راستہ سے صحبت کرنے پر مجبور کرتا ہو۔ایسی صورتوں میں عورت انکار کر دے تو گناہ گار نہ ہو گی۔(4) محض تھکاوٹ کا ہونا کوئی ایسا عذر نہیں جو شرعاً معتبر ہو اور عورت کو اس وجہ سے صحبت سے انکار کرنے کی رخصت دی جائے، اس لیے اگر عورت انکار کرے گی تو گناہ گار ہو گی۔ ایسی صورت میں بیوی کے نا چاہتے ہوئے بھی اگر خاوند ملاقات کرنا چاہے تو کر سکتا ہے، لیکن کامل رضامندی نہ ہونے کی وجہ سے عموماً ازدواجی زندگی پر منفی اثرات پڑنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اس لیے اگر خاوند تھکاوٹ جیسی صورت میں بیوی کی راحت کا خیال رکھ لے تو امید ہےاس کا یہ اقدام باہمی محبت و الفت میں اضافہ کا باعث بنے گا۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved