• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

کیا زندہ افراد کے لیے “ایصالِ ثواب ” جائز ہے؟

استفتاء

ہم نے اپنی واجب قربانی کے علاوہ ایک نفل قربانی کرنے کا ارادہ کیا ہے، دریافت یہ کرنا ہے کہ اس نفل قربانی کا ثواب پہنچانے میں نیت کیسے کی جائے؟ نیز ایصالِ ثواب صَرف مُردہ افراد کے لیے جائز ہے یا زندہ لوگوں کو بھی کیا جا سکتا ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

نفل قربانی اور دیگر نفلی عبادات کا ثواب جس طرح فوت شدہ افراد کو بھیجنا جائز ہے اسی طرح زندہ افراد کو پہنچانا بھی جائز ہے۔ 
امام علاؤ الدین ابی بکر بن سعود الکاسانی رحمہ اللہ (ت: 587ھ) لکھتے ہیں: 
“مَنْ صَامَ أو صَلّى أو تَصَدَّقَ وَجَعَلَ ثَوَابَهُ لِغَيْرِهِ من الْأَمْوَاتِ أو الْأَحْيَاءِ جَازَ وَيَصِلُ ثَوَابُهَا إلَيْهِمْ عِنْدَ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ وقد صَحَّ عن رَّسُوْلِ اللہُ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ضَحَّى بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَحَدُهُمَا عن نَفْسِهِ وَالْآخَرُ عن أُمَّتِهِ مِمَّنْ آمَنَ بِوَحْدَانِيَّةِ اللہِ  تَعَالٰى وَبِرِسَالَتِهِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ” 
(بدائع  الصنائع فی ترتیب الشرائع: ج،2ص، 202)
ترجمہ: کوئی بندہ (نفل) روزہ ، نماز یا صدقہ کا ثواب  اپنے علاوہ زندہ یا مُردہ افراد میں سے کسی کو بھیجے تو اس کا یہ عمل جائز ہے، اور اہل السنۃ والجماعۃ کے نزدیک اس عمل کا ثواب ان کو  پہنچ جائے گا۔ صحیح حدیث  سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے دو چِتکبرے(ایسا رنگ جس میں سیاہی اور سفیدی مِلی جُلی ہو)مینڈھوں کی قربانی فرمائی۔  ایک قربانی اپنی  ذات بابرکات کی طرف سے اور دوسری اپنی پوری امت کے ہر اس فرد کی طرف سے جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت (اور ختمِ نبوّت) پر ایمان رکھتا ہو۔
نفل قربانی  میں ایصال ِ ثواب   کی نیت میں یہ ترتیب بہتر ہے۔
سب سے پہلے حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات کی نیت کی جائے، اس کے بعد انبیاء کرام علیہم السلام، اس کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، پھر تابعینِ کرام، تبع تابعینِ عظام، فقہاء ومجتہدین، محدّثین، مفسرین،   چاروں سلاسل کے مشائخ، اکابر علماء دیوبند  رحمہم اللہ تعالیٰ ، والدین، رشتہ دار،  فوت شدہ، زندہ  درجہ بہ درجہ   تمام اہل ِ ایمان کی مجموعی طور ایک ہی قربانی میں   نیت  کی جا سکتی  ہے۔ 
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء 
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved