- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
میرے والد نےجس خاتون کے ساتھ دوسری شادی کی، اس کی پہلے کسی اور مرد کے ساتھ شادی ہوئی تھی جس میں سے ایک بیٹا اور دو بیٹیاں تھیں، یہ لڑکا اور دونوں لڑکیاں اپنی ماں کے ساتھ ہی میرے والد کے زیرِ تربیت رہنے لگے۔ میرا اور میرے سوتیلے بہن بھائیوں کا بچپن ایک ساتھ گزرا ہے،اب میری سوتیلی بہنیں بھی کافی بڑی ہو چکی ہیں ، ان کے پاس میں آنا جانا نہیں رکھتا ، اس وجہ سے وہ مجھ سے ناراض ہیں اور کہتے ہیں کہ بھائی آپ ہمیں چھوڑ گئے ہو، آپ ہمیں ملنے آیا کریں۔ اب دریافت یہ کرنا ہے کہ میرا ان سے پردہ بنتا ہے یانہیں؟ اگر وہ میری مَحرم ہیں پھر تو میں آنا جانا رکھوں گا ، اگر وہ غیرمَحرم ہیں تو میں کیا طریقہ اختیار کروں کہ ان کی ناراضی ختم ہو جائے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
آپ کی سوتیلی والدہ کی حقیقی بیٹیاں آپ کی غیر محرم ہیں، آپ ایک دوسرے کے حق میں اجنبی ہیں، اس لیےآپ سے ان کا پردہ ضروری ہے۔ آپ نرمی اور سلیقے سے گھر کی کسی خاتون کے ذریعے ان کو یہ شرعی حکم سمجھا دیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں، اس لیے ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے پابند ہیں۔ اپنی مرضی سے نہ ہم کسی سے رشتہ جوڑ سکتے ہیں نہ ہی توڑ سکتے ہیں۔ اگرچہ ہمارا بچپن اکٹھے گزرا ہے، اس کے باوجود شرعی طور پر ہم غیر محرم ہیں۔ اس وجہ سے میں آپ کے گھر آنے سے احتیاط کرتا ہوں۔باقی آپ پردہ کا لحاظ رکھتے ہوئے رشتہ داری کے حقوق ادا کرتے رہیں، دکھ سکھ کے لمحات میں ان کی خبرگیری رکھا کریں، اپنی وسعت کے مطابق ان کے ساتھ مالی تعاون کرتے رہا کریں۔ اس کے علاوہ جو ضرورت ہو حسبِ استطاعت پوری کر دیا کریں۔ ہاں اگر کبھی کسی معاملہ میں کوئی بات پوچھنی بتانی ہو تو اپنے گھر کی خواتین کے ذریعے پیغام بھجوا دیا کریں، اس طریقے سے کسی دقّت کا سامنا کیے بغیرآپ رشتہ داروں کے ساتھ حُسنِ سلوک کا فریضہ پورا کرتے رہیں گےتو اس طرح اللہ تعالیٰ بھی خوش ہوں گے اور ان کا شکوہ بھی دور ہو جائے گا۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved