استفتاء
زید اپنے 9 بیٹوں اور 3 بیٹیوں کے ساتھ ایک تجارتی شہر میں اپنے مکان میں رہتا تھا، جو چار منزلہ عمارت کے چوتھی منزل پر ہے، جس میں چار کمرے اور ایک کچن ہے، اسی عمارت کی پہلی منزل پر تین کمرے اور ہیں جس کو زید اپنےآفس کے اور اپنے مہمانوں کے قیام کے لیے استعمال کرتا تھا۔زید نے اپنے چھوٹے دو بیٹوں کے لیے شہر میں دو نئے مکان ( جس میں دو کمرے اور کچن ہے ) خریدے، جس میں دونوں بیٹے اپنی اپنی فیملی کے ساتھ رہنے لگے، اور سب سے چھوٹے بیٹے کو دو کمرے والا ایک کلینک بھی خرید کر دیا، جس میں اس نے اپنا دوا خانہ کھول رکھا ہے۔ مکان اور کلینک کی قیمت کی ادائیگی سے پہلے زید کا انتقال ہوگیا لیکن زید نے وفات سے قبل اس قیمت کی ادائیگی اپنے مال سے کرنے کی وصیت کر دی تھی، چنانچہ مکانوں اور کلینک کی قیمت زید کی وصیت کے بموجب مال وراثت سے ادا کی گئی۔ اب زید کے بعد دونوں چھوٹے بیٹے پرانے مکان میں سے جو سات بھائیوں اور تین بہنوں کے پاس ہے، اپنا حصہ مانگ رہے ہیں۔دریافت طلب بات یہ ہے کہ ان دونوں چھوٹے بھائیوں کا اس مکان میں حق بنتا ہے یا نہیں اور ان کا اس میں اپنے حصہ کا مطالبہ کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں؟ ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
چند باتیں ذہن میں رکھیے:
(1) میراث اس مال میں جاری ہوتی ہے جو “ترکہ” میں داخل ہو۔
(2) ترکہ میت کے اس مال کو کہا جاتا ہے جو اس کی وفات کے وقت اس کی ملکیت میں ہو اور اس کے ساتھ کسی غیر کا حق متعلق نہ ہو۔
(3) اگر میت نے اپنی زندگی میں کسی کو اپنا مال دے کر اسے مکمل مالک بنا دیا ہو تو وہ مال اس کا ہو جاتا ہے، میت کے ترکہ میں شامل نہیں سمجھا جاتا۔
(4) اگر میت نے اپنی زندگی میں مال کسی کو دیا ہو مگر اس کو مکمل مالک نہ بنایا ہو تو وہ مال میت ہی کا سمجھا جاتا ہے ، اس لیے اسے ترکہ میں شامل کیا جاتا ہے۔
(5) اپنی زندگی میں کوئی والد اگر اپنی اولاد کو اپنے مال کا مکمل مالک بنا دے تو وہ اولاد مالک بن جاتی ہے اور اس طرح مال دینے کو “ھبہ” یا “عطیہ” کہتے ہیں۔ اس مال کو میراث نہیں کہا جاتا۔
درج بالا قواعد کی روشنی میں اب تفصیل سمجھیے:
زید کی وفات کے وقت جو منقولی یا غیر منقولی جائیداد اس کی ملکیت میں تھی،اس میں سے تجہیز و تکفین کےاخراجات نکالنے، قرض اگر ذمہ میں ہوں تو ان کی ادائیگی اور کسی جائز کام کی وصیت کی ہو تو ایک تہائی مال میں اس وصیت کو پورا کرنے کے بعد بقیہ تمام مال میں تمام ورثہ اپنے اپنے مقرر شدہ حصہ کے مطابق حق دار ہوں گے۔اس لیے جس مکان میں زید رہائش پذیر تھا وہ چونکہ”ترکہ” میں شامل ہے، اس لیے اس میں زید کے ان دو بیٹوں کا اپنے حصے کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز ہے، جو ان کو محروم رکھے گا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جواب دِہ ہو گا۔
اسی طرح زید کے “ترکہ” کے حوالے سے یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ زید نے اپنے ان دو بیٹوں کو جو مکان اور کلینک دیا تھا اس کی نوعیت کیا ہے؟ آیا وہ “ترکہ” میں داخل ہوتے ہیں یا نہیں؟ اس کی تفصیل یہ ہے کہ زید نے اپنی زندگی میں جو نئے مکان اور کلینک خرید کر اپنے دو چھوٹے بیٹوں کے قبضے میں دیا تھا، اگر اس مکان اور کلینک کے کاغذات بھی باقاعدہ طور پر ان دو بیٹوں کے نام کر دیے تھے ، تو اس صورت میں ان کو مکمل مالک سمجھا جائے گا اور یہ سب چیزیں میراث میں شامل نہ ہوں گی، ان کے اندر ان دو کے علاوہ کوئی اور حق دار نہ ہو گا۔
اگرزید نے اس مکان اور کلینک کے کاغذات ان کے نام نہیں کرائے تھے تو اس صورت میں وہ دو بیٹے مکمل مالک نہیں سمجھے جائیں گے، اب یہ کہا جائے گا کہ والد نے وہ مکان اور کلینک مالکانہ طور پر نہیں بلکہ محض رہائش اور استعمال کے لیے ان کے قبضے میں دیے تھے ، اس لیے یہ سب چیزیں “ترکہ” میں شامل ہوں گی، اور تمام ورثہ اپنے اپنے طے شدہ حصہ کے مطابق اس کے حق دار ہوں گے۔
حاصل یہ ہے کہ زید کے “ترکہ” میں ان دو بیٹوں کا اپنے اپنے حصہ کا مطالبہ کرنا درست ہے، اور اگر ان (دو بیٹوں)کے استعمال میں موجود رہائش گاہ اور کلینک ان کے نام رجسٹرڈ نہیں تو وہ سب بھی زید کے “ترکہ” میں شامل ہوں گے، اور دیگر ورثہ کے لیے ان میں اپنے اپنے حصہ کا مطالبہ کرنا جائز ہو گا۔
مشہور ہے کہ زر، زن اور زمین یہ تین چیزیں ایسی ہیں کہ اگر ان میں انصاف، اعتدال اور توازن کو ملحوظ نہ رکھا جائے تو یہ چیزیں باہمی الفت کو نفرت میں بدل دیتی ہیں اور باہمی اتحادو اتفاق کو پارہ پارہ کر دیتی ہیں، اس لیے بہتر ہے کہ کسی مقامی معتبر عالمِ دین کے رو برو یہ مسئلہ پیش کر کےان کے زیرِ نگرانی اسے حل کرا لیا جائے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا