- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ہمارے ہاں لاک ڈاؤن ہے اور حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ شہر کی صرف ایک مسجد میں عید الاضحیٰ کی نماز ادا کی جائے گی جس میں صرف ”50 “ افراد شریک ہوں گے۔ اس کے علاوہ پورے شہر میں کہیں بھی نمازِ عید ادا نہیں کی جائے گی۔ ان حالات میں ہم عید کی نماز کیسے ادا کریں؟ کیا ان حالات میں گھروں میں بھی عید کی نماز ادا کی جا سکتی ہے؟ اگر ادا کی جا سکتی ہو تو اس کا طریقہ کار کیا ہے اور اس حوالے سے ہم کن کن امور کا خیال رکھیں؟ رہنمائی فرمائیں! جزاک اللہ خیرا واحسن الجزاء۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
نماز عید ادا کرنے کے لیے اصل حکم یہی ہے کہ کوئی عذر نہ ہو تو نماز کھلے میدان میں ہی ادا کی جائے۔ موجودہ حالات میں اگر حکومت کی جانب سے کھلے میدان اور عام مساجد میں نمازِ عید پڑھنے پر پابندی ہو تو نمازِ عید گھروں میں ادا کی جا سکتی ہے۔ چنانچہ ایک بلڈنگ یا محلہ کے چند افراد ایک گھر میں جمع ہوکر عید کی نماز ادا کرسکتے ہیں۔ اگر حکومت کی جانب سے گھر کے افراد کے علاوہ باقی افراد کا اس گھر میں جمع ہونا ممنوع ہو تو باقی لوگ اس جماعت میں شرکت نہ کریں بلکہ گھر کے افرادہی نماز ادا کر لیں۔عام حالات میں خواتین کے لیے نماز عید کی ادائیگی کے لیے گھر سے باہر جانا مناسب نہیں ہےالبتہ ان حالات میں گھر میں نمازِ عید ادا کرنے کی صورت میں خواتین بھی نماز عید کی جماعت میں شریک ہونا چاہیں تو ہو سکتی ہیں۔ مردوں میں کوئی نامحرم ہو تو مردوں اور عورتوں کی صفوں کے درمیان کپڑا لٹکا دیا جائے تاکہ پردہ قائم رہے اور اگر مرد سارے محرم ہو تو پردہ لٹکانے کی ضرورت نہیں بلکہ مردوں کی صفوں کے پیچھے خواتین کا صف بنانا ہی کافی ہے۔ بچوں کو مَردوں والی صف میں اور بچیوں کو خواتین والی صف میں کھڑا کریں۔نوٹ:بڑے اجتماعات پر پابندی کی صورت میں نمازِ عید کے لیے بھی بہتر اور افضل یہی ہے کہ امام کے علاوہ تین افراد ہوں۔ تاہم موجودہ لاک ڈاؤن میں اگر چار افراد جمع نہ ہو سکیں تو امام ایک فرد کے ساتھ بھی نماز عید پڑھا سکتا ہے۔نمازِ عید کا طریقہپہلی رکعت میں ثناء پڑھنے کے بعد تین زائد تکبیرات اس طرح کہیں کہ ہاتھ اٹھائیں پھر چھوڑ دیں، پھر ہاتھ اٹھائیں پھر چھوڑ دیں، پھر ہاتھ اٹھائیں اور باندھ لیں۔ امام صاحب اعوذ باللہ ، بسم اللہ، فاتحہ اور اس کے بعد والی سورت پڑھے گا۔ مقتدی خاموش رہیں۔ اس کے بعد رکوع، قومہ، دو سجدے کر کے قیام کریں۔ دوسری رکعت میں امام صاحب بسم اللہ، فاتحہ اور اس کے بعد والی سورت پڑھے گا۔ مقتدی خاموش رہیں گے۔ قرأت کے بعد تین زائد تکبیریں اس طرح کہیں کہ ہاتھ اٹھائیں پھر چھوڑ دیں، پھر ہاتھ اٹھائیں پھر چھوڑ دیں، پھر ہاتھ اٹھائیں پھر چھوڑ دیں اور پھر رکوع کی تکبیر کہہ کر رکوع میں چلے جائیں۔ پھر قومہ، دو سجدے کر کے تشہد بیٹھیں اور آخر میں سلام پھر دیں گے۔نمازِ عید میں اذان اور اقامت نہیں ہوتی۔ دو رکعت نماز پہلے ادا کی جاتی ہے اور خطبہ بعد میں دیا جاتا ہے۔ اس لیے مذکورہ طریقہ کے مطابق دو رکعت نماز عید ادا کرلی جائے اور اس کے بعد عید کا خطبہ پڑھا جائے۔ خطبہ کے بعد ملک و ملت کی ترقی اور اس کورونا وباء کے خاتمہ کے لیے دعاؤں کا اہتمام کیا جائے ۔عید ا لاضحیٰ کا پہلا خطبہ
اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ،اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ جَعَلَ مَنْسَكًا لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْ بَهِيْمَةِ الْأَنْعَامِ، وَعَلَّمَ التَّوْحِيْدَ وَأَمَرَ بِالْإِسْلَامِ، اَللهُ أَکْبَرْ اَللهُ أَکْبَرْ لَآ إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَکْبَرْ اَللهُ أَکْبَرْوَلِلّٰهِ الْحَمْدُ.وَنَشْهَدُ أَنْ لَّآ إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِیْکَ لَهٗ وَنَشْهَدُ أَنَّ سَیِّدَنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُوْلُهٗ الَّذِيْ هَدَانَا إِلٰی دَارِ السَّلَامِ اَللهُ أَکْبَرْ اَللهُ أَکْبَرْ لَآ إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَکْبَرْ اَللهُ أَکْبَرْ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ.أَمَّا بَعْدُ! فَقَدْ قَالَ عَلَیْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: “مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ مِنْ عَمَلٍ یَوْمَ النَّحْرِ أَحَبَّ إِلَی اللهِ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ.” اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ ﴿فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ﴾ بَارَکَ اللهُ لَنَا وَلَکُمْ فِي الْقُرْآنِ الْعَظِیْمِ وَنَفَعَنَا وَإِیَّاکُمْ بِالْآیَاتِ وَالذِّکْرِ الْحَکِیْمِ. أَسْتَغْفِرُ اللهَ لِيْ وَلَکُمْ وَلِسَائِرِ الْمُسْلِمِیْنَ فَاسْتَغْفِرُوْهُ إِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ.عید الاضحیٰ کا دوسرا خطبہاَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ،اَللّٰه أَکْبَرْ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ نَحْمَدُهٗ وَنَسْتَعِیْنُهٗ وَنَسْتَغْفِرُهٗ وَنُؤْمِنُ بِهٖ وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْهِ وَنَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ شُرُوْرِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیِّاٰتِ أَعْمَالِنَا۔ اَللهُ أَکْبَرْ اَللهُ أَکْبَرْ لَآ إِلٰهَ إِلاَّ اللهُ وَاللهُ أَکْبَرْ اَللهُ أَکْبَرْ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ وَنَشْهَدُ أَنْ لَآ إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِیْکَ لَهٗ وَنَشْهَدُ أَنَّ سَیِّدَنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُوْلُهٗ۔ اَللهُ أَکْبَرْاَللّٰهُ أَکْبَرْ لَآ اِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَکْبَرْ اَللّٰهُ أَکْبَرْ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ.أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْم بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْم﴿ اِنَّ اللهَ وَمَلٰئِكَتَهٗ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ يَآ اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا﴾ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُوْلِکَ وَصَلِّ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ، وَبَارِکْ عَلٰی سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّأَزْوَاجِهٖ وَذُرِّیَّتِهٖ وَصَحْبِهٖ أَجْمَعِیْنَ۔ اَللهُ أَکْبَرْاَللّٰهُ أَکْبَرْ لَآ إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَکْبَرْ اَللّٰهُ أَکْبَرْ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ.قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: “أَرْحَمُ أُمَّتِيْ بِأُمَّتِيْ أَبُوْبَکْرٍ، وَأَشَدُّهُم فِيْ أَمْرِ اللهِ عُمَرُ، وَأَصْدَقُهُمْ حَیَاءً عُثْمَانُ، وَأَقْضَاهُمْ عَلِیٌّ، وَفَاطِمَةُ سَیِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَالْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ سَیِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَحَمْزَةُ أَسَدُ اللهِ وَأَسَدُ رَسُوْلِهٖ -رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِيْنَ” اَللهُ أَکْبَرْاَللّٰهُ أَکْبَرْ لَآ إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَکْبَرْ اَللّٰهُ أَکْبَرْ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ ﴿ اِنَّ اللهَ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِیْتَآءِ ذِي الْقُرْبٰی وَیَنْهٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْکَرِ وَالْبَغْيِ یَعِظُکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ﴾ فَاذْکُرُوا اللهَ یَذْکُرْکُمْ وَادْعُوْهُ یَسْتَجِبْ لَکُمْ، وَلَذِکْرُ اللهِ تَعَالٰی أَعْلٰی وَأَوْلٰی وَأَعَزُّ وَأَجَلُّ وَأَتَمُّ وَأَهَمُّ وَأَعْظَمُ وَأَکْبَرُ اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰه أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ.چند اہم مسائل
[1]: عید کی نماز کے بعد مصافحہ ومعانقہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔اگرمحض عید کی خوشی اور مسرت کی وجہ سے آپس میں معانقہ و مصافحہ کیاجائے اور اس کو عید کی سنت نہ سمجھاجائے بلکہ محض محبت اور تعلق کا اظہار مقصود ہو تو درست ہے۔ ایسی صورت میں مصافحہ ومعانقہ مباح اور جائز ہو گا۔البتہ مصافحہ ومعانقہ کو کسی دن مثلاً جمعہ یا عیدین کے ساتھ خاص کرنا اور اسے بطور خاص اس دن کی سنت سمجھ کر کرنا صحیح نہیں۔[2]: عید کے اس موقع پر ایک دوسرے کو عید کی مبارک باد دینا مستحب عمل ہے۔ عید کی مبارک باد دیتے ہوئے ایک دوسرے کو ”تَقَبَّلَ اللّهُ مِنَّا وَمِنْكَ“ (اللہ تمہارے اور ہمارے نیک اعمال قبول فرمائے) کے الفاظ کہنے چاہییں اور انہی الفاظ کی عادت ڈالنی چاہیے کیونکہ یہ الفاظ حدیث مبارک سے ثابت ہیں۔[3]: جہاں عید کی نماز ہوتی ہو وہاں قربانی کا وقت نمازِ عید کے بعد شروع ہوتا ہے۔ چنانچہ شہر یا قصبے میں ایک جگہ بھی نمازِ عید ہوجائے تو قربانی کی جاسکتی ہے خواہ قربانی کرنے والے نے خود نمازِ عید نہ پڑھی ہو۔ اگر کسی جگہ پر حکومتی پابندی کی وجہ بڑے اجتماعات نہ ہوئے ہوں اور مساجد میں بھی نمازِ عید نہ ہورہی ہو تو مذکورہ طریقے کے مطابق نمازِ عید پڑھ کر قربانی کرلی جائے۔ نمازِ عید کا وقت سورج نکلنے کے تقریباً پندرہ منٹ بعد شروع ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ جہاں عید کی نماز ہوتی ہو وہاں نمازِ عید سے پہلے قربانی کرنا دُرست نہیں۔ اگر کسی نے نمازِعید سے پہلے جانور ذبح کرلیا تو یہ گوشت کا جانور ہوا، قربانی نہیں ہوگی۔[4]: اگر کوئی ایسی بستی ہے جہاں جمعہ و عیدین کی نماز نہیں ہوتی تو وہاں پر 10ذوالحجہ کی صبح صادق کے بعد قربانی کی جاسکتی ہے اگرچہ شہر میں ابھی عید کی نماز ادا نہ ہوئی ہو۔ البتہ بہتر یہی ہے کہ دیہات اور بستی میں سورج نکلنے کے بعد قربانی کی جائے۔[5]: قربانی کا وقت دسویں تاریخ سے لے کر بارھویں تاریخ کی شام تک ہے۔ بارھویں تاریخ کا سورج غروب ہوجانے کے بعد قربانی درست نہیں۔ دس اور گیارہ کی درمیانی رات، اسی طرح گیارہ اور بارہ کی درمیانی رات میں بھی قربانی کی جاسکتی ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved