- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عرض یہ ہے کہ اس وقت ساری دنیا میں لاک ڈاون چل رہا ہے اور اسی لاک ڈاون کے درمیان عیدالفطر کی آمد ہے حکومت کی طرف سے نمازِ عیدالفطر پر بھی پابندی ہے تو اس وقت نمازِ عیدالفطر کا کیا حکم ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
نماز عید کی ادائیگی کے لیے مسلمانوں کے جمع ہونے سے اسلام کی شان و شوکت کا اظہار ہوتا ہے۔ اس لیے نماز عید ادا کرنے کے لیے اصلی حکم یہی ہے کہ کوئی عذر نہ ہو تو عید کی نماز کھلے میدان میں ہی ادا کی جائے۔ اس لیے لاک ڈاؤن کھلنے کی صورت میں کھلے میدان میں ہی عید الفطر کی ادائیگی کا اہتمام کیا جائے۔ البتہ موجودہ حالات میں حکومتی پابندی کے پیش نظر ان امور کو ملحوظ رکھا جائے:1: اگر حکومت کی جانب سے کھلے میدان میں نماز عید پڑھنے پر پابندی ہو اور مساجد کی حد تک نماز عید پڑھنے کی اجازت ہو تو مسجد میں نماز ادا کی جائے۔ شہر یا علاقے کی ایک بڑی مسجد میں نماز عید کی ادائیگی ممکن ہو تو بہتر ورنہ مختلف مساجد میں نماز عید پڑھنے کا اہتمام کیا جائے۔2: اگر حکومت کی جانب سے مساجد میں بھی اجتماعات پر پابندی ہو تو نماز عید گھروں میں ادا کی جائے۔ چنانچہ محلہ کے چند افراد ایک گھر میں جمع ہوکر عید کی نماز ادا کرسکتے ہیں۔3: اگر حکومت کی جانب سے گھر کے افراد کے علاوہ باقی افراد کا اس گھر میں جمع ہونا ممنوع ہو تو باقی لوگ اس جماعت میں شرکت نہ کریں بلکہ گھر کے افرادہی نماز ادا کر لیں۔تنبیہ:
نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے امام کے علاوہ تین افراد کا ہونا ضروری ہے۔ نماز عید میں بھی بہتر ہے کہ امام کے علاوہ تین افراد ہوں لیکن کسی وجہ سے اس سے کم لوگ بھی نمازِ عید ادا کریں گے تو نماز ہوجائے گی۔4: خواتین کے لیے نماز عید کی ادائیگی کے لیے گھر سے باہر جانا مناسب نہیں؛ البتہ گھر میں نماز عید ادا کرنے کی صورت میں خواتین بھی اس میں شریک ہونا چاہیں تو ہو سکتی ہیں۔ چنانچہ مردوں میں کوئی نامحرم ہو تو مردوں اور عورتوں کی صفوں کے درمیان کپڑا لٹکا دیا جائے تاکہ پردہ قائم رہے اور اگر مرد سارے محرم ہو تو پردہ لٹکانے کی ضرورت نہیں بلکہ مردوں کی صفوں کے پیچھے خواتین کا صف بنانا ہی کافی ہے۔ بچوں کو مَردوں والی صف میں اور بچیوں کو خواتین والی صف میں کھڑا کریں۔5: نمازِ عید کی ادائیگی کا طریقہ یہ ہے کہ پہلی رکعت میں ثناء کے بعد قراءت سے پہلے تین زائد تکبیریں اور دوسری رکعت میں قراءت کے بعد، رکوع سے پہلے تین زائد تکبیریں کہی جاتی ہیں۔ پہلی رکعت میں زائد تکبیریں کہتے وقت ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑ دیے جاتے ہیں اور تیسری تکبیر کے بعد باندھ لیے جاتے ہیں اور دوسری رکعت میں تین زائد تکبیروں کے بعد چوتھی تکبیر کہہ کر نمازی رکوع میں چلا جاتا ہے۔ نماز عید کی ترتیب یہ ہے کہ دو رکعت نماز پہلے ادا کی جاتی ہے اور خطبہ بعد میں دیا جاتا ہے۔ اس لیے مذکورہ طریقہ کے مطابق دو رکعت نماز عید ادا کرلی جائے اور اس کے بعد عید کا خطبہ پڑھا جائے۔عید الفطر کا پہلا مختصر خطبہ:
اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰه أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الْمُنْعِمِ الْمُحْسِنِ الدَّیَّانِ۔ اَللهُ أَکْبَرْاَللّٰهُ أَکْبَرْ لَآ اِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَکْبَرْ اَللّٰه أَکْبَرْ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ۔ وَأَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِیْکَ لَهٗ وَأَشْهَدُ أَنَّ سَیِّدَنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُوْلُهٗ، صَلَّی اللهُ عَلَیْهِ وَعَلیٰ آلِهٖ وَأَصْحَابِهٖ ۔ اَللهُ أَکْبَرْاَللّٰهُ أَکْبَرْ لَآ إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَکْبَرْ اَللّٰه أَکْبَرْ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ۔ أَمَّا بَعْدُ! فَاعْلَمُوْا أَنَّ یَوْمَکُمْ هٰذَا یَوْمُ عِیْدٍ،اَللهُ أَکْبَرْاَللّٰهُ أَکْبَرْ لَآ إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَکْبَرْ اَللّٰهُ أَکْبَرْ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ۔ وَقَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: إِنَّ لِکُلِّ قَوْمٍ عِیْدًا وَّهٰذَا عِیْدُنَا۔ اَللهُ أَکْبَرْاَللّٰهُ أَکْبَرْ لَآ إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَکْبَرْ اَللّٰهُ أَکْبَرْ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ۔وَقَدقَالَ عَلَیْهِ الصَّلاةُ وَالسَّلَامُ : مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهٗ سِتًّا مِّنْ شَوَّالٍ کَانَ کَصِیَامِ الدَّهْرِ۔ اَللهُ أَکْبَرْاَللّٰهُ أَکْبَرْ لَآ اِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَکْبَرْ اَللّٰهُ أَکْبَرْ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَکیّٰ وَذَکَرَاسْمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰی۔ أَسْتَغْفِرُ اللهَ لِيْ وَلَکُمْ وَلِسَائِرِ الْمُسْلِمِیْنَ فَاسْتَغْفِرُوْهُ إِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمِ۔ اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰه أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْعید الفطر کا دوسرا مختصر خطبہ:اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ،اَللّٰه أَکْبَرْ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ نَحْمَدُهٗ وَنَسْتَعِیْنُهٗ وَنَسْتَغْفِرُهٗ وَنُؤْمِنُ بِهٖ وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْهِ وَنَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ شُرُوْرِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیِّاٰتِ أَعْمَالِنَا۔ اَللهُ أَکْبَرْ اَللهُ أَکْبَرْ لَآ إِلٰهَ إِلاَّ اللهُ وَاللهُ أَکْبَرْ اَللهُ أَکْبَرْ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ وَنَشْهَدُ أَنْ لَآ إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِیْکَ لَهٗ وَنَشْهَدُ أَنَّ سَیِّدَنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُوْلُهٗ۔ اَللهُ أَکْبَرْاَللّٰهُ أَکْبَرْ لَآ اِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَکْبَرْ اَللّٰهُ أَکْبَرْ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ۔أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْم بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْم﴿ اِنَّ اللهَ وَمَلٰئِكَتَهٗ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ يَآ اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا﴾ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُوْلِکَ وَصَلِّ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ، وَبَارِکْ عَلٰی سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّأَزْوَاجِهٖ وَذُرِّیَّتِهٖ وَصَحْبِهٖ أَجْمَعِیْنَ۔ اَللهُ أَکْبَرْاَللّٰهُ أَکْبَرْ لَآ إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَکْبَرْ اَللّٰهُ أَکْبَرْ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ۔قَالَ النَّبِیُّﷺ: أَرْحَمُ أُمَّتِيْ بِأُمَّتِيْ أَبُوْبَکْرٍ، وَأَشَدُّهُم فِيْ أَمْرِ اللهِ عُمَرُ، وَأَصْدَقُهُمْ حَیَاءً عُثْمَانُ، وَأَقْضَاهُمْ عَلِیٌّ، وَفَاطِمَةُ سَیِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَالْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ سَیِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَحَمْزَةُ أَسَدُ اللهِ وَأَسَدُ رَسُوْلِهٖ -رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِيْنَ- اَللهُ أَکْبَرْاَللّٰهُ أَکْبَرْ لَآ إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَکْبَرْ اَللّٰهُ أَکْبَرْ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ۔ ﴿ اِنَّ اللهَ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِیْتَآءِ ذِي الْقُرْبٰی وَیَنْهٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْکَرِ وَالْبَغْيِ یَعِظُکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ﴾ فَاذْکُرُوا اللهَ یَذْکُرْکُمْ وَادْعُوْهُ یَسْتَجِبْ لَکُمْ، وَلَذِکْرُ اللهِ تَعَالٰی أَعْلٰی وَأَوْلٰی وَأَعَزُّ وَأَجَلُّ وَأَتَمُّ وَأَهَمُّ وَأَعْظَمُ وَأَکْبَرُ۔ اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰه أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْ، اَللّٰهُ أَکْبَرْواللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved