- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عرض یہ ہے کہ ایک عالمِ دین نے یہ مسئلہ بیان کیا ہے کہ غریب آدمی جس پر شرعاً قربانی کرنا فرض نہیں ہے وہ اس کے باوجود قربانی کا جانور خرید لیتا ہے اور وہ جانور قربانی سے پہلے مر جائے تو اب اس غریب آدمی پر دو قربانی کرنا واجب ہے۔ کیا یہ مسئلہ درست ہے؟
اور ایک بات یہ بھی مشہور ہے کہ اگر امیر آدمی کی قربانی کا جانور مر جائے تو وہ قربانی نہیں کرے گا۔ اس کی بھی وضاحت فرما دیں!
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
سوال میں ذکر کردہ دونوں صورتوں میں صحیح مسئلہ یہ ہے کہ غریب آدمی نے اگر قربانی کی نیت سے جانور خرید لیا اور وہ جانور قربانی سے پہلے مر گیا تو اس غریب آدمی سے قربانی ساقط ہو جائے گی، اب اس پر دوسرا جانور خرید کر قربانی کرنا لازم نہیں جبکہ امیر آدمی نے جانور خریدا اور وہ قربانی سے پہلے مر گیا تو امیر شخص کے ذمہ دوسرا جانور خرید کر قربانی کرنا لازم ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ امیر آدمی پر قربانی کرنا شرعاً واجب ہے ، وہ جس جانور کی قربانی کرے اس کی طرف سے واجب ادا ہو جاتاہے، اس لیے اگر امیر آدمی قربانی کی نیت سے جانور خریدے تو اس سے جانور متعین نہیں ہوتا۔ جہاں تک غریب آدمی کا تعلق ہے تو شرعاً اس پر قربانی واجب نہیں۔ اگر وہ قربانی کی نیت سے جانور خرید لے تو یہ نذر معین کے حکم میں ہو جاتی ہے جس کا حکم یہ ہے کہ قربانی اسی متعین جانور کی کرنا اس کے ذمہ لازم ہے۔اب اگر امیر آدمی کا جانور مر جائے تو چونکہ اس پر متعین جانور کی قربانی واجب نہیں بلکہ نفسِ قربانی واجب ہے اس لیے دوسرا جانور خریدنا اس کے ذمہ لازم ہے جبکہ غریب کے ذمہ اسی متعینہ جانور کی قربانی لازمی تھی، اس لیے اس متعینہ جانور کے مرنے کی صورت میں غریب آدمی پر کچھ لازم نہیں ہوتا۔عین ممکن ہے کہ مولانا صاحب کا بیان کردہ مسئلہ سمجھنے میں آپ سے تسامح ہوا ہو ورنہ اگر مسئلہ اس کے علاوہ کچھ اور ہے تو پوچھنے پر اس کی وضاحت کر دی جائے گی ان شاء اللہ۔ علامہ محمد امین بن عمر ابن عابدین شامی (ت1252ھ) لکھتے ہیں:
فِي الْبَدَائِعِ أَنَّ الْمَنْذُورَةَ لَوْ هَلَكَتْ أَوْ ضَاعَتْ تَسْقُطُ التَّضْحِيَةُ بِسَبَبِ النَّذْرِ ، غَيْرَ أَنَّهُ إنْ كَانَ مُوسِرًا تَلْزَمُهُ أُخْرَى بِإِيجَابِ الشَّرْعِ ابْتِدَاءً لَا بِالنَّذْرِ ، وَلَوْ مُعْسِرًا لَا شَيْءَ عَلَيْهِ أَصْلًا. ترجمہ: بدائع الصنائع میں ہے کہ نذر مانی ہوئی بکری اگر مر گئی یا چوری ہو گئی تو قربانی کرنا ساقط ہو جاتا ہے۔ ہاں اگر یہ شخص امیر ہے تو دوسرے جانور کی قربانی کرنا اس کے ذمہ واجب ہے اس لیے کہ شریعت نے امیر کے ذمہ (اس کے صاحبِ حیثیت ہونے کی وجہ سے) قربانی واجب کی ہے، اس کے ذمہ نذر ماننے کی وجہ سے قربانی واجب نہیں ہوئی، اور اگر یہ شخص غریب ہے تو اس پر کچھ لازم نہیں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved