• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

قربانی کس پر واجب ہے؟

استفتاء

اگر کسی عورت کے پاس ساڑھے سات تولہ سونے سے کم سونا ہو۔ تو اس پر قربانی واجب ہے یا نہیں؟ وضاحت فرمائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

سونے کی اس مقدار کے ساتھ دیکھا جائے گا کہ اگر اس عورت کے پاس مزید یہ چار چیزیں؛ چاندی، نقدی، مالِ تجارت اور گھر کا زائد از ضرورت سامان موجود ہوں یا ان میں سے بعض موجود ہوں اور ان کی مجموعی قیمت ساڑھے سات تولہ سونے ( جس کی قیمت آج کل 885150 روپے بن رہی ہے) کے برابر ہو تو اس عورت پر قربانی واجب ہے۔ اور اگر اس مجموعہ کی قیمت اتنی نہ ہو بلکہ اس سے کم ہو تو قربانی واجب نہ ہو گی۔تاہم اگر ان پانچ چیزوں یا بعض کا مجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو ( جس کی قیمت آج کل 74970 روپے بن رہی ہے) تو احتیاط کے پیشِ نظر یہ عورت قربانی کر لے تو بہتر ہو۔مالِ تجارت سے مراد:
اگر کسی چیز کو خریدتے وقت نیت یہ تھی کہ اسے بعد میں فروخت کر دیں گے اور یہ نیت تاحال باقی بھی ہو تو اب یہ چیز ”مالِ تجارت“ میں شمار ہو گی، لیکن اگر کوئی چیز خریدتے وقت اسے آگے فروخت کرنے کی نیت نہ ہو یا اس وقت تو فروخت کرنے کی نیت تھی لیکن بعد میں نیت بدل گئی تو ایسی چیز ”مالِ تجارت“ میں شمار نہ ہو گی۔زائد از ضرورت سامان سے مراد:
کسی شخص کے پاس موجود ایسا سامان جو اس کی بنیادی ضروریات سے زائد ہو ”زائد از ضرورت“ سامان کہلائے گا۔رہائشی مکان، کرائے پر دیا ہوا مکان، استعمال کی گاڑی،استعمال کے کپڑے دکان کا فرنیچر وغیرہ ضرورت کا سامان شمار ہوگا ۔ اسی طرح ایسے برتن یا کپڑے جو سال بھر میں ایک بار بھی استعمال نہ ہوئے ہوں وہ زیادہ از ضرورت سامان شمار ہوں گے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved