• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

غیراللہ کے نام کا جانور خرید کر قربانی کرنا کیسا ہے؟

استفتاء

مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں بعض حضرات اپنی کسی حاجت کو پورا کرانے کی غرض سے جانور کو زیارت میں لے جا کر وہاں ذبح کرکے اس کا گوشت لوگوں میں تقسیم کرتے ہیں، اور کبھی کبھار جانور زیارت کی انتظامیہ کے حوالے کرتے ہیں اور زیارت کے نام پر بنی ہوئی رسید انتظامیہ سے وصول کرتے ہیں انتظامیہ بعد میں قربانی کے ایام میں اس جانور کو بیچتی ہے۔ کچھ لوگ بڑے شوق سے قربانی کے لیے زیارت کی انتظامیہ سے اسے خرید کر اس کی قربانی کرتے ہیں۔ معلوم یہ کرنا تھا کیا ایسے جانور کی قربانی کرنا درست ہےیا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

آپ نے “زیارت” کا لفظ استعمال کیا ہے ، اس سے آپ کی مراد اگر یہ ہے کہ وہ لوگ کسی مزار پہ جا کے صاحبِ دربار کے تقرّب کی نیت سے اپنے جانور ذبح کرتے ہیں اور وہاں کی انتظامیہ کی ملکیت میں بطور ِ ہدیہ دے دیتے ہیں تو اس مسئلہ کی تین صورتیں بنتی ہیں جو مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ نے ” توضیح کلام اھل اللہ فیما أھلّ بہ لغیراللہ” کے نام سے اپنے ایک رسالہ میں تحریر فرمائی ہیں،

جن کا خلاصہ حسبِ ذیل ہے:
(1) کسی جانور کو غیرُ اللہ کے تقرّب کی غرض سےذبح کیا جائے اورذبح کے وقت اسی غیرُاللہ کا نام لیا جائےتو یہ مذبوحہ بالاجماع اور بالاتفاق حرام ہے، یہ جانور “میتہ” ہے اس کے کسی جزو سے انتفاع جائز نہیں۔(2) کسی جانور کو ذبح کرنے سے غیرُ اللہ کا تقرّب مقصود ہو لیکن ذبح کے وقت اس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے، یہ صورت بھی حرام اور میتہ کے حکم میں ہے۔(3) کسی جانور کو غیرُ اللہ کے تقرّب اور تعظیم کے لیے چھوڑ دیا جائے، نہ تو اس سے کوئی کام لینا مقصود ہو اور نہ ذبح کرنے کا قصد ہو، اس صورت میں اگرچہ ان کا یہ فعل( تقرّب لغیر اللہ کے حصول والا) حرام اور ناجائز ہے مگر اس کے باوجوداس جانورکو شرعی طریقے سے ذبح کرکے کھانا اور اس کی خرید و فروخت کرناجائز ہے۔فائدہ: اس تیسری صورت میں مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ نے مفتی اعظم ہند مفتی محمد کفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ کے فتویٰ کو “مفتی ٰبہ” قرار دیا ہے جو حکیم الامت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی طرف سے تصدیق شدہ ہے۔ وہ فتویٰ حسبِ ذیل ہے:“جو جانور بتوں کے نام پر یا کسی غیراللہ کے نام چھوڑے جاتے ہیں اور ان کی جان لینا مقصود نہیں ہوتا بلکہ صرف کام لینے سے آزاد کرنا مقصود ہوتا ہے، اور “مااُھلّ بہ لغیر اللہ” میں داخل نہیں ان کو “سائبہ” کہتے ہیں، اور ان کی حرمت صرف بوجہ مِلکِ غیر ہونے کے ہے کہ وہ مالک کی مِلک سے خارج نہیں ہوتی، اگر مالک کسی کو ان کے ذبح کرنے اور کھانے کی اجازت دے دے تو وہ حلال ہیں، اور ایسی گائیوں کی اولاد بھی مالک کی ہوتی ہے، پس ان گائیوں کو یا ان کی اولاد کو بِلا اجازت مالک کے کھانا حلال نہیں ہے”۔ (جواہر الفقہ، ج:6ص:237 )نوٹ: درج بالا تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ اس تیسری قسم کے جانور کوخرید کر اگر قربانی کی گئی تو فریضہ ادا ہو جائے گا تاہم بہتر یہ ہے کہ ایسے جانور کو خریدنے سے احتراز کیا جائے تاکہ تقرّب لغیراللہ کے عمل کی حوصلہ شکنی ہو۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved