- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
قربانی میں زیادہ سے زیادہ ثواب کیسے لے سکتے ہیں مثلاً دو لاکھ میں ایک اونٹ آتا ہے جس میں سات حصے ہوتے ہیں جب کہ اتنی رقم میں تین گائے یا بھینس آ سکتی ہیں جن میں حصوں کی مجموعی تعداد اکیس ہو گی۔مزید یہ بھی بتا دیجیے کہ قربانی کے ذریعے ایصالِ ثواب کریں تو نیت کی ترتیب کیا ہونی چاہیے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
قربانی سے گوشت مطلوب نہیں بلکہ اس سے مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب، خوشنودی اور تقویٰ حاصل ہو جائے، اور یہ چیزیں تب حاصل ہوتی ہیں جب قربانی حُسنِ نیت اور خلوص کے ساتھ کی جائے ۔ گویا قربِ خداوندی، رِضائے الٰہی ، تقویٰ اور اجر و ثواب کا مدار حُسنِ نیت اور اخلاص پر ہے۔ اچھی نیت کے ساتھ کی گئی قربانی بظاہر مقدار میں کم بھی ہو مگر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول بن کر بہت زیادہ اجر و ثواب کا باعث بنتی ہے ، اور بد نیتی کے ساتھ بظاہر مقدار میں زیادہ قربانی اللہ تعالیٰ کے نزدیک رائیگاں ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ قربانی کے جانور میں اس کا فَربہ ہونا شرط نہیں بلکہ بہتر اور مناسب ہے، خلوص کے ساتھ کم زور جانور کی قربانی اس موٹے جانور کی قربانی سے ہزارہا درجہ بہتر ہے جسے رِیاکاری اور دکھلاوے کی نیت سے کیا جائے۔
اس تفصیل کی روشنی میں یہ بات واضح ہو گئی کہ قربانی میں ظاہری مقدار کو کسی کے اجر و ثواب کا پیمانہ قرار نہیں دیا جا سکتا کہ اس کا حصہ کم ہے تو اجر کم ہے اور فلاں کا حصہ زیادہ ہے تو اجر زیادہ ہے۔باقی ہر قربانی کرنے والا بندہ اپنے دل کی حالت اور نیت سے خوب واقف ہوتا ہے، اس لیے زیادہ مقدار میں قربانی کرنے والا اگر اخلاص اور رضائے الٰہی کی نیت سے کرے گا تو اپنی نیت کی برکت سے اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ اجروثواب کا حق دار ہو گا۔
نفل قربانی میں ایصال ِ ثواب کی نیت میں یہ ترتیب بہتر ہے۔
سب سے پہلے حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات کی نیت کی جائے، اس کے بعد انبیاء کرام علیہم السلام، اس کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، پھر تابعینِ کرام، تبع تابعینِ عظام، فقہاء ومجتہدین، محدّثین، مفسرین، چاروں سلاسل کے مشائخ، اکابر علماء دیوبند رحمہم اللہ تعالیٰ ، والدین، رشتہ دار، فوت شدہ، زندہ درجہ بہ درجہ تمام اہل ِ ایمان کی مجموعی طور ایک ہی قربانی میں نیت کی جا سکتی ہے۔
اگر ان میں سے مخصوص شخصیات کی طرف سے الگ الگ قربانی کی جائے تب بھی جائز ہے، جیسے ایک قربانی حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے، ایک حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف سے ، ایک حضرت امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمہ اللہ کی طرف سے ، اور ایک حجۃ اللہ فی الارض مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی رحمہ اللہ کی طرف سے قربانی کی جائے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved