- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
اگر شوہر بیوی کو گھر سے نکال دے اور طلاق بھی نہ دے ، لڑکی کے ساس سسر اور ماں باپ دونوں ہی اس کو اپنے پاس رکھنے پر رضامند ہوں، تو اس صورت میں شرعاً بیوی کوکس کے پاس رہنا چاہیے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
شادی کے بعد خاتون اپنے شوہر کی عزت اور اس کے گھر کی ملکہ ہوتی ہے، معمولی اختلاف اور رنجش کی بناء پر دوری پیدا کرنا یا خدانخواستہ رشتہ ختم کرنا قطعاً دانش مندی نہیں۔ اگر کبھی حالات ناسازگار ہوں جائیں تو اسے ساز گار اور خوش گوار بنانے کی سعی کرنی چاہیے، نہ کہ ایسا قدم اٹھایا جائے جو فرقت میں اضافہ کا باعث بنے۔جس خاتون کے ساتھ اس کے شوہر نے نامناسب رویہ اختیار کرکے گھر سے نکال دیا، اسے چاہیے کہ اپنے ساس سسر کے پاس رہنے کو ترجیح دے، کیوں کہ ان کے پاس رہناقربت اور صلح کا ذریعہ بنے گا، اس کے برعکس ماں باپ کے گھر رہنے سے معاملہ مزید بگڑنے کا خدشہ رہے گا۔احادیث مبارکہ میں شوہر کے حقوق بہت زیادہ وارد ہوئے ہیں، اس لیے اگر اس خاتون کی غلطی ہو تو اس پر لازم ہے کہ اپنے شوہر سے فوراً معافی مانگ لیں، اگر ان کے شوہر کی غلطی ہو تو خاندان کے مقتدر اور معزز افراد ان کو سمجھائیں، امید ہے معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہو جائے گا۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved