• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

شکمِ مادر میں ناقص الخلقت بچہ کو ضائع کرانے کا حکم

استفتاء

ماں کے پیٹ میں اگر بچہ نامکمل ہو یا پھر معذور ہو اور اس کے بارے میں معلومات اگر الٹراساؤنڈ کے ذریعے سے حاصل کی گئی ہوں تو پھر کیا وہ بچہ ماں کے پیٹ میں ہی ضائع کروا یا جاسکتا ہے یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

ماں کے شکم میں اگر بچہ ناقص الخلقت ہو تو اسے ضائع کرایا جائے یا نہ کرایا جائے ؟ اس بارے میں تفصیل یہ ہے۔(1) بچہ اگر چار ماہ سے کم مدت کا ہو تو اس صورت میں ضائع کرایا جا سکتا ہے۔فائدہ:یہ بات یاد رہے کہ شکم مادر میں چار ماہ سے کم مدت والے بچہ کے اعضاء میں نقص کی تشخیص کرنا اور بچہ کے ابنارمل ہونے کا فیصلہ کرنا ہر ڈاکٹر کے بس کی بات نہیں، بلکہ بہت ہی لائق اور تجربہ کار ماہر ڈاکٹر جدید مشینری کی مدد سے یہ کام کر سکتا ہے،ہمارے دور میں سینکڑوں میں دوچار ایسے ہو تے ہیں جو اس چیز کا پتہ لگا لیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چار ماہ مکمل ہونے سے قبل بچہ کے اعضاء مکمل ہوتے ہیں اور نہ ہی اس میں روح موجود ہوتی ہے، یہ دونوں عمل(اعضاء کی تکمیل اور روح کا ڈالا جانا) چار ماہ یعنی ایک سو بیس دن پورے ہونے کے بعد واقع ہوتے ہیں۔ اس لیے اعضاء کی تکمیل سے قبل ہی اس بچہ میں کسی نقص کی نشاندہی کرنا بہت پیچیدہ معاملہ ہے۔(2) اگر بچہ چار ماہ سے زیادہ مدت والا ناقص الخلقت ہو تو اسے ضائع کرانا جائز نہیں۔ اس کی درج ذیل وجوہات ہیں۔(۱) ایک وجہ یہ ہے کہ بعض دفعہ لوگ ایک چیز کو نقص سمجھ رہے ہوتے ہیں مگر میڈیکل کے لحاظ سے وہ نقص شمار نہیں ہوتا، اس لیے محض تخمینے کی بنیاد پر اسقاط جائز نہ ہو گا۔(۲) دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر واقعتاً تخلیق میں کوئی نقص ہو بھی سہی تو عموماً ایسے بچے ولادت سے قبل ازخود ہی ضائع ہو جاتے ہیں۔ اس طرح مسئلہ خود ہی حل ہو جائے گا۔(۳) تیسری وجہ یہ ہے کہ اگر بالفرض وہ ناقص الخلقت بچہ ولادت کے مراحل سے گزر کر دنیا میں آ ہی جائے تو اکثر وہ زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہ پاتےاور اپنی طبعی موت مر جاتے ہیں۔لہٰذا ہمیشہ یاد رکھیے کہ اللہ تعالیٰ جوکرتے ہیں بہتر کرتے ہیں، اس لیے محض اس وجہ سے ان معصوم کلیوں کو کِھلنے سے قبل ہی مَسل ڈالنا اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور غضب کا باعث ہو گا۔ اور ویسے بھی پیدائش کے بعد کتنے معصوم بچے اور بالغ افراد کسی حادثے کی وجہ سے معذوری کا شکار ہو جاتے ہیں تو ہم لوگ پہلے سے بڑھ کر ان کا خیال رکھتے ہیں تو ایسے ہی پیدائش سے قبل ان کو قبول کرنا چاہیے۔ہاں اگر ماں کے پیٹ میں اس بچہ کی وجہ سے ایسا انفیکشن ہو جائے جو ماہر ڈاکٹر کے بقول ماں کے لیے جان لیوا ثابت ہو تو اس صورت میں اس بچہ کو ضائع کرا دینے کی اجازت ہو گی۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved