- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ہمارے ہندوستان کےایک شہر حیدرآباد میں کچھ لوگ مریض کے صحت یاب ہونے کےبعدپرندہ آزاد کرتےہیں۔ اسی طرح اگر کوئی بیمارہوجائے تو اس کاہاتھ جانور یاپیسوں کولگاکر اس عقیدہ کےساتھ صدقہ کرتےہیں کہ ایساکرنےسے بیمارکوشفا مل جاتی ہے۔ اسی طرح کسی بیماری، آفت یا مصیبت کے وقت اس نیت سے جانور ذبح کرنا کہ اس ذبح کی وجہ سے وہ آفت ٹل جائے گی یا وہ جانور مریض کی جان کا بدل بن جائے گا اور مریض صحت یاب ہو جائے گا۔ اس سلسلےمیں عاجزجانناچاہتاکہ شریعت کا کیاحکم ہے ، مفصّل جواب مطلوب ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
بِلاشبہ صدقہ کرنا ایک بہت نیک عمل ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کا سبب ہے، گناہوں کو مٹاتا ہے، اللہ تعالیٰ کے غضب کو ختم کرتا ہے۔حدیث مبارک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کرنے کی خوب ترغیب دی ہے ۔ بیماری کے موقع پہ صدقہ کرنا اچھی بات ہے لیکن اس کے ثمرات اور فوائد تبھی حاصل ہوتے ہیں جب شریعت کی ہدایت کے مطابق یہ عمل کیا جائے، صدقہ یا کسی بھی نیک عمل میں اپنی طرف سے کمی بیشی کر نا اور اسےلازمی سمجھ کر اس عمل کا باقاعدہ حصہ بنا لینا بدعت ہے، اور بدعت کی شناعت و قباحت بالکل واضح ہے۔
نفل صدقہ کی غرض سے پرندہ آزاد کرنا باعثِ اجر ہے، اسی طرح بیماری کے خاتمہ کے لیے صدقہ کرنا بھی فی نفسہ جائز ہے، لیکن اس صدقہ یا پرندہ کے آزاد کرنے کو لازم اورجان کا بدلہ سمجھنا ، اور اس عمل کے ذریعے صحت یابی کے حصول کو یقینی سمجھنا قطعاً درست نہیں۔ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ اور فقیہ العصر مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ نے اس چیز کو بدعت قرار دیا ہے۔ ذیل میں ان کے فتاویٰ نقل کیے جاتے ہیں:
حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کا فتویٰ:
بیماری میں بکرا ذبحہ کرنا
سوال (۲۷۵)
زید سخت بیمار ہوا اس وقت اس کے خویش و اقارب نے ایک بکرا لا کر زید کی جانب سے ذبح کر کے اس کا گوشت للہ فقراء کو تصدق کر دیا اور یہ عام رواج ہو گیا ہے اور اس طریقہ کو دم نام رکھا ہے، آیا یہ طریقہ شرعاً کیسا ہے، اور اس کا ثبوت کہیں ہے یا نہیں؟
الجواب:
چونکہ مقصود فدا ہوتا ہے اور ذبح کی یہ غرض صرف عقیقہ میں ثابت ہے اور جگہ نہیں، اس لیے یہ طریقہ بدعت ہے۔ فقط۔
(امداد الفتاویٰ ج5 ص312)
فقیہ العصر مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ کا فتویٰ:
بیماری سے شفا کے لیے بکرا ذبح کرنا
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید سخت بیمار ہے اگر اس کی طرف بکر اذبح کر کے گوشت فقیروں کو تقسیم کیا جائے تو جائز ہے یا نہیں، کہ اللہ تعالیٰ صدقہ کی وجہ اس بیماری پر رحم کرے یا آسانی سے جلد روح نکل جائے، اس کا شرعاً کیا حکم ہے؟ اگر جائز ہے تو جانور کی عمر اور رنگ کی بھی کوئی تخصیص ہے یا جیسا ہو ویسا ہی جائز ہو گا؟ بیّنوا توجروا۔
الجواب باسم ملھم الصواب :
آفات اور بیماری سے حفاظت کے لیے صدقہ و خیرات کی ترغیب آئی ہےمگر عوام کا اعتقاد اس بارے میں یہ ہو گیا ہے کہ کسی جانور کا ذبح کرنا ہی ضروری ہے، جان کو جان کا بدلہ سمجھتے ہیں، شریعت میں اس کا کوئی ثبوت نہیں، یہ عوام کی خود ساختہ بدعت ہے۔ اگر کوئی یہ عقیدہ نہ رکھتا ہو تو بھی اس میں چونکہ اس عقیدے اور بدعت کی تائید ہے لہٰذا ناجائز ہے، اور کسی قسم کا صدقہ وخیرات کر دے۔ شریعت میں قربانی اور عقیقہ کے سوا اور کہیں بھی جانور کا ذبح کرنا ثابت نہیں، یہ غلط عقیدہ اچھے اچھے دین دار لوگوں میں بھی پایا جاتا ہے، اس لیے علماء پر لازم ہے کہ اس کی اصلاح پر خاص توجہ دیں اور مدارسِ دینیہ میں اس قسم کے جو بکرے دیے جاتے ہیں ان کو ہرگز قبول نہ کریں، علماء کی چشم پوشی اور ایسے بکروں کو قبول کر لینے سے اس گمراہی کی تائید ہوتی ہے۔
(احسن الفتاویٰ: ج1 ص 367)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved