• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

شادی کے لیے کپڑے اجرت پر لینا جائز ہے یا نہیں؟

استفتاء

دلہن یا دلہا کے لیے رینٹ (کرایے)پر لباس لینا کیسا ہے ؟ جائز ہے یا نا جائز؟ یا پھر ذاتی لباس لینا بہتر ہے حالانکہ ذاتی لباس ایک ہی بار استعمال کر کے دوبارہ استعمال میں نہیں لایا جا سکتا ہے جب کہ رینٹ(کرایے) والا استعمال کر کے واپس بھی کر سکتے ہیں۔اس موقع پہ کیا کرنا چاہیے؟ راہنمائی فرما کر شکریہ کا موقع دیجیے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

شریعت مبارکہ نے ہمیں اپنے ہر معاملے میں اعتدال کا دامن تھامے رکھنے کا درس دیا ہے۔ اعتدال اور وسعت سے ہٹ کر کیا جانے والا کام عموماً پشیمانی کا باعث بنتا ہے، اس لیے بہتر یہ ہے کہ شادی بیاہ اور دیگر مواقع پہ اشیاء کی خرید و فروخت میں اپنی آمدنی کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔باقی ضرورت پڑنے پر لباس، پوشاک یا کوئی بھی ایسی چیز جو استعمال کرنے سے ختم نہ ہو بلکہ منفعت کے حصول کے بعد اسے واپس کیا جا سکتا ہو تو اسےاجرت پر لینا اور دیناجائزہے، شرط یہ ہے کہ اجرت (کرایہ) اور مدت متعین کر لی جائے۔ لہٰذا آپ اگرملبوسات اجرت پر لینا چاہیں تو لے سکتے ہیں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved