• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

غیر مستحق کو مستحق سمجھ کر زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم

استفتاء

ایک بندہ زکوٰۃ کا مستحق نہیں ،لوگ اسے مستحق سمجھ کر زکوٰۃ دیتے ہیں تو اس سے ان کی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی یا نہیں؟۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

زکوٰۃ دینے والے کا غالب گمان زکوٰۃ دیتے وقت یہ ہو کہ یہ بندہ زکوٰۃ کا مستحق ہے ، بعد میں معلوم ہوکہ وہ غیر مستحق ہے، مثلاً : جسے زکوٰۃ دی ہو وہ مال دار ہو،ہاشمی ہو،یا زکوۃ ادا کرنے والے کا باپ یا بیٹا ہو تو ایسی صورت میں زکوٰۃ ادا ہوجائے گی، دوبارہ دینے کی ضرورت نہیں ۔نوٹ: ایسا بندہ جو زکوٰۃ کا مستحق نہ ہو تو اس کی شرعی واخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ از خود زکوٰۃ دینے والوں کو اپنے غیر مستحق ہونے سے آگاہ کردے ۔ہاں اگر زکوٰۃ دینے والے اس کو وکیل بنادیں کہ ہماری زکوٰۃ کسی مستحق کو دے دو اور اس وکیل کی بیوی، والدین یا اولادمیں سے کوئی زکوٰۃ کا مستحق ہو تو وہ اسے بھی دے سکتا ہےواللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved