- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
استاذ جی! ”یا رسول اللہ“ کہنے کے بارے میں کچھ وضاحت فرما دیں کہ آیا یہ جملہ کہنا درست ہے یا نہیں اور ایسا کہنے کی حدود کیا ہیں؟ جزاک اللہ خیراً
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
”یا رسول اللہ“ میں ”یا“ حرف خطاب ہے۔ جب کسی کو مخاطب کیا جائے تو اسے حرف نداء سے خطاب کرتے ہیں۔ اس لیے ”یا رسول اللہ“ کا معنیٰ ہے: اے اللہ کے رسول!(2): اگر روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضری ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سلام اور شفاعت کی دعا کرنے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ”یا“ حرف نداء کے ذریعے خطاب کرنا درست ہے۔ کیونکہ ہمارا عقیدہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر مبارک میں زندہ ہیں۔ لہذا وہاں قریب جا کر خطاب کرنا درست ہو گا۔(3): دور سے ”یا رسول اللہ“ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارنا جائز نہیں ہے اس لئے کہ ہر جگہ حاضر ناظر ہونا اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ اگر دور سے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ”یا رسول اللہ“ کہہ کر پکارا جائے تو یہ اللہ تعالیٰ کی صفت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ثابت کرنے کے مترادف ہو گا جوکہ جائز نہیں۔(4): اپنے کسی بڑے کو دور خطاب کرنا ادب نہیں بلکہ بے ادبی ہے۔ اس لیے دور سے ”یا رسول اللہ“ کہنے کو ہم بے ادبی سمجھتے ہیں، اس سے احتراز لازم ہیں۔ واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved