- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
صدقہ کے لیے دی گئی گندم مدرسہ کی بجائے دوکان میں فروخت کر کے خود پہ خرچ کر لی گئی اور اس بات کو تقریباً اٹھارہ سال گزر گئے۔ اب اس گناہ کا کفاره کیسے ادا کیا جائے ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مدرسہ کی گندم آپ کے پاس امانت تھی ، اور مدرسہ سے متعلق تمام افراد کا اس پر حق تھا، آپ سے اس امانت میں خیانت ہوئی، اس لیےبہتر ہے کہ دو رکعت صلاۃ التوبہ پڑھ کر خوب استغفار کریں۔گندم جتنی قیمت میں فروخت ہوئی تھی اگر وہ مقدار یاد ہو تو اتنی رقم (احتیاطاً کچھ زائد رقم) ، اگر قیمت یاد نہ ہو تو خوب غور و فکر کریں، جنتی قیمت پر غالب گمان ہو اس میں مزید کچھ رقم شامل کر کے اس مدرسہ میں جمع کرا دیں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved