• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

کیا بچوں کا رونا ذکر، درود اور دعا شمار ہوتا ہے؟

استفتاء

کسی نے مجھے ایک پوسٹ بھیجی ہے، جس میں لکھا ہےحدیثِ پاک میں آیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے چھوٹے بچوں کو رونے پر مت مارو، اس لیے کہ معصوم بچوں کا پہلے چار ماہ تک رونا” لَا اِلٰہَ اِلّا اللہ” کی گواہی دینا ہے، اور اس کے بعد چار ماہ کا رونا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا ہے، اور اس کے بعد کے چار ماہ کا رونا والدین کے لیے دعا کرنا ہے۔ براہِ کرم اس کی تحقیق فرما دیجیے کہ کیا واقعی یہ حدیث مبارک ہے ، اگر ہے تو کس درجہ کی ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

یہ حدیث امام ابوبکر احمد بن علی الخطیب البغدادی رحمہ اللہ (ت: 463 ھ) نے اپنی کتاب “تاریخِ بغداد” میں اور امام ابو الفضل احمد بن علی بن حجر العسقلانی رحمہ اللہ (ت: 852 ھ) نے اپنی کتاب “لسان المیزان” میں نقل کی ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
“عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْهُمَا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: لَا تَضْرِبُوْا أَوْلَادَكُمْ عَلٰى بُكَائِهِمْ فَبُكَاءُ الصَّبِيِّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ شَهَادَةُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللہُ وَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ اَلصَّلَاةُ عَلٰى مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ دُعَاءٌ لِوَالِدَيْهِ”ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ: اپنے چھوٹے بچوں کو رونے کی وجہ سے مت مارو، کیوں کہ معصوم بچے کا پہلے چار ماہ تک رونا” لا َاِلٰہ اِلاَّ اللہ” کی گواہی دینا ہے، اور اس کے بعد چار ماہ کا رونا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا ہے، اور اس کے بعد کے چار ماہ کا رونا والدین کے لیے دعا کرنا ہے۔امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ یہ حدیث نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔
” هٰذَا الْحَدِيْثُ مُنْكَرٌ جِدّاً وَرِجَالُ إِسْنَادِهٖ كُلُّهُمْ مَشْهُوْرُوْنَ بِالثِّقَةِ سِوٰى أَبِي الْحَسَنِ الْبَلَدِيِّ “(تاریخِ بغداد، ج9 ص 256 حدیث نمبر 3524)ترجمہ: یہ حدیث بہت زیادہ مُنکَر ہے، (اس میں نکارت بہت زیادہ پائی جاتی ہے)۔اس کے راویوں میں ابوالحسن البلدی کے علاوہ باقی سب ثقاہت اور اعتماد میں مشہور ہیں۔امام ابنِ حجر العسقلانی رحمہ اللہ اس حدیث کے بارے تحریر فرماتے ہیں:
“قَالَ الْخَطِيْبُ مُنْكَرٌ جِدًّا وَرِجَالُهٗ مَشْهُوْرُوْنَ بِالثِّقَةِ اِلَّا عَلِىُّ بْنُ إِبْرَاهِيْمَ الْبَلَدِيُّ ، قُلْتُ: هُوَ مَوْضُوْعٌ بِلَا رَيْبٍ “(لسان المیزان، ج4 ص 191 رقم الترجمہ506)ترجمہ: خطیب بغدادی تو کہتے ہیں کہ یہ حدیث بہت زیادہ مُنکَر ہے، اور ایک راوی علی بن ابراہیم البلدی کے علاوہ باقی سب ثقہ ہیں، مگر میں کہتا ہوں کہ یہ حدیث بلا شک و شبہ موضوع اور مَن گھڑت ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتامرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved