- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
میرا مسئلہ یہ ہے کہ جس شخص کے ساتھ میرا نکاح ہوا ہے اس کا میری والدہ سے تقریباً دس سال تک تعلق رہا ہے اور یہ تعلق جسمانی رہا ہے۔ اس کے بعد میرا اس شخص سے نکاح ہوا لیکن اس شخص (اب میرے خاوند) کا میری والدہ سے جسمانی تعلق میرے نکاح کے بعد بھی رہا ہے۔ اب مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس صورت میں تو نکاح نہیں ہوتا۔ اس حوالے سے میرے چند سوالات ہیں۔(1): اس شخص کے ساتھ جو میرا نکاح ہوا ہے کیا یہ نکاح شرعاً منعقد ہو گیا ہے یا نہیں؟(2): اگر نکاح درست نہیں ہے تو کیا میں اس شخص سے طلاق لیے بغیر کسی دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہوں؟(3): اس شخص سے جو بچے پیدا ہوں تو کیا ان کو حلالی کہا جائے گا؟ اور کیا ان کا نسب میرے اس شوہر سے ثابت ہو گا یا نہیں؟ یعنی ان کے والد کے نام کے خانہ میں میرے شوہر کا نام لکھنا درست ہو گا؟(4): اس دوران اگر ہم (میں اور میرا خاوند) میں سے کوئی فوت ہو جائے تو کیا ان بچوں کو ہماری میراث سے حصہ ملے گا یا نہیں؟برائے مہربانی ان کا جواب دے کر میری الجھنیں دور فرمائیں۔ جزاک اللہ خیراً
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
آپ کے سوالات کے جوابات بالترتیب پیش ہیں:
[1، 2]: چونکہ آپ کے ساتھ نکاح کرنے سے پہلے اس شخص کا ناجائز تعلق (جسمانی تعلق) آپ کی والدہ کے ساتھ رہا ہے اس لیے آپ کا نکاح اس شخص کے ساتھ صحیح نہیں ہوا۔ نکاح صحیح نہ ہونے کی وجہ سے آپ کو شوہر سے طلاق لینے کی ضرورت نہیں بلکہ چند آدمیوں کے سامنے یہ کہہ دیں کہ میں اپنے نکاح کو فسخ کرتی ہو ں جو اس شخص (اپنے شوہر کا نام لے لیں) کے ساتھ ہوا تھا ۔ شوہر کے سامنے بھی یہ بات کہہ دیں تو بہتر ہے۔ یہ کلمات کہنے کے بعد آپ تین حیض عدت گزار کر اِس شخص سے آزاد ہو جائیں گی۔ اس کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنا چاہیں تو کر سکتی ہیں۔[3]: بچوں کا نسب اس شخص سے ثابت ہو گا۔ یہ حلالی شمار ہوں گے اور والد کے خانہ میں آپ کے شوہر کا نام ہی لکھا جائے گا ۔[4]: جی ہاں! یہ بچے دونوں کے وارث ہوں گے۔ لَوْ أَقَرَّ بِحُرْمَةِ الْمُصَاهَرَةِ يُؤَاخَذُ بِهِ وَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا وَكَذٰلِكَ إذَا أَضَافَ ذٰلِكَ إلٰى مَا قَبْلَ النِّكَاحِ بِأَنْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: كُنْتُ جَامَعْتُ أُمَّكِ قَبْلَ نِكَاحِكِ يُؤَاخَذُ بِهِ وَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا.1981(الفتاوی الہندیۃ: ج1 ص275)ترجمہ: اگر شوہر حرمت مصاہرت کا اقرار کرتا ہے تو اس کے اس اقرار کو قبول کیا جائے گا اور خاوند بیوی کو جدا کر دیا جائے گا۔اسی طرح اگر خاوند نکاح سے پہلے حرمت مصاحرت کی بات کرتا ہے مثلاً بیوی کو کہتا ہے کہ میں نے تجھ سے نکاح کرنے سے پہلے تمہاری ماں سے ہمبستری کی تھی تو اس کے اس اقرار کو قبول کیا جائے گا اور خاوند بیوی کو جدا کر دیا جائے گا۔ ( و ) يثبت ( لكل واحد منهما فسخه ولو بغير محضر عن صاحبه ودخل بها أو لا ) في الأصح خروجا عن المعصية.(الدر المختار: ج3 ص134)ترجمہ: اور ان دونوں میں سے ہر ایک کے لیے (نکاح کو) فسخ کرنے کا حق ہے چاہے دوسرے کی موجودگی میں ہو یا غیر موجودگی میں اور چاہے دخول ہو چکا ہو یا نہ ہوا ہو یہی صحیح قول ہے تاکہ گناہ سے بچا جا سکے۔ وَبِحُرْمَةِ الْمُصَاهَرَةِ لَا يَرْتَفِعُ النِّكَاحُ حَتّٰى لَا يَحِلَّ لَهَا التَّزَوُّجُ بِآخَرَ إلَّا بَعْدَ الْمُتَارَكَةِ وَانْقِضَاءِ الْعِدَّةِ ، وَالْوَطْءُ بِهَا لَا يَكُوْنُ زِنًا .(رد المحتار: ج9 ص277)ترجمہ: حرمتِ مصاہرت ثابت ہونے کی وجہ سے نکاح فورا ختم نہیں ہو تا اس لیے بیوی کے لیے دوسرے مرد سے نکاح کرنا اس وقت تک جائز نہیں ہو گا جب تک دونوں میں علیحدگی واقع نہ ہو جائے اور عدت ختم نہ ہو جائے۔ اس دوران (نکاح کے قائم رہنے کی حالت میں) جو جسمانی تعلق قائم ہوا وہ زنا شمار نہ ہو گا۔ الْوَطْءُ الْكَائِنُ فِي هٰذِهِ الْحُرْمَةِ قَبْلَ التَّفْرِيقِ وَالْمُتَارَكَةِ لَا يَكُونُ زِنًا قَالَ فِي الْحَاوِي وَالْوَطْءُ فِيهَا لَا يَكُونُ زِنًا ؛ لِأَنَّهُ مُخْتَلَفٌ فِيهِ ، وَعَلَيْهِ مَهْرُ الْمِثْلِ بِوَطْئِهَا بَعْدَ الْحُرْمَةِ وَلَا حَدَّ عَلَيْهِ وَيَثْبُتُ النَّسَبُ .(رد المحتار: ج9 ص283)ترجمہ: حرمت مصاہرت ثابت ہونے کی صورت میں خاوند بیوی کے جدا ہونے سے پہلے اگر ہمبستری ہوئی ہو تو اسے زنا نہیں کہیں گے۔ کتاب الحاوی میں ہے: اس دوران ہمبستری کرنا زنا شمار نہیں ہو گا کیونکہ یہ مسئلہ اختلافی ہے۔ حرمتِ مصاحرت ثابت ہونے کے بعد (نکاح ہو جانے کی صورت میں) اگر خاوند نے ہمبستری کی تو اس پر مہر واجب ہوتا ہے اور خاوند پر کوئی حد بھی لاگو نہیں ہو گی۔ اگر اس دوران بچے پیدا ہو گئے تو ان کا نسب بھی خاوند سے ثابت ہو جائے گا۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved