• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

حضرت مریم علیہا السلام کی مدتِ حمل کتنی تھی؟

استفتاء

حضرت عیسیٰ علیہ السلام ماں کے پیٹ میں کتنا عرصہ رہے اگر 9 ماہ ہیرہے تو کیا کسی کو معلوم نہیں ہوا کہ حضرت مریم علیہ السلام حاملہ ہے ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

حضرت مریم علیہا السلام کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبریل علیہ السلام کی پھونک کے ذریعے حمل ٹھہرا، اس حمل کی مدت  میں مفسرین کرام رحمہم اللہ کے مختلف اقوال ہیں، بعض حضرات نے فرمایا کہ عام خواتین کی طرح حمل کی مدت  نو ماہ تھی، بعض نے آٹھ اور بعض نے چھ ماہ بھی  مدت ذکر کی ہے۔  مگر ان  اقوال پر جویہ اشکال  پیدا ہوتا ہے کہ پھر اتنے عرصے میں  کسی کو پتہ کیوں نہیں چلا؟ اس میں کئی احتمالات ہیں: 
(1)  اللہ تعالیٰ نے جیسے اپنی قدرتِ کاملہ کے ذریعے حمل ٹھہرا دیا ، ویسے ہی اپنی قدرت کے ذریعے   حمل کو ظاہر بھی نہ ہونے دیا،   جسمانی ساخت ویسے ہی رہی جیسے پہلے تھی۔ 
(2) مدتِ حمل عام خواتین کی طرح تھی، اور مدت کے ساتھ ساتھ جسمانی ساخت میں بھی تبدیلی رونما ہوتی رہی،  مگر حمل کے دوران میں عموماً  خواتین کو جن تکالیف اور   کیفیات  سے گزرنا پڑتا ہے، اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کو اس سے محفوظ رکھا،  اس لیے کسی کو از خود آگاہ نہیں کیا۔ اور حضرت مریم علیہا السلام چونکہ   طبعاً  شرم و حیا کا  پیکر تھیں، حجاب اور پردہ کی پابند تھیں،  اس  لیے اس غیر اختیاری    انوکھے واقعہ کے بعد    حجاب اور پردہ کا  مزید اہتمام کر نے کی وجہ سے کسی اور  کو  پتہ نہ چل سکا۔ 
(3) ایک قول یہ ہے کہ ایک ہی دن کے مختلف لمحات میں حمل میں اضافہ ہوتا رہا، اور اسی دن  میں  حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہو گئی۔ اس قول کو لیا جائے تو اب  سوال پیدا  نہیں ہوتا کہ کسی کو پتہ کیوں نہیں چل سکا۔ 
(4) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک روایت یہ ہے کہ حمل اور ولادت میں کوئی  زیادہ وقفہ نہیں تھا، حمل قرار پانے کے  بعد ہی ولادت کے آثار شروع ہو گئے تھے۔    اس قول کو لیا جائے تو اب  سوال پیدا  نہیں ہوتا کہ کسی کو پتہ کیوں نہیں چل سکا۔
مشہور مفسرِ امام محمد بن احمد الانصاری  القرطبی رحمہ اللہ (ت:380 ھ)  نے اپنی تفسیر  “الجامع لأ حکام القرآن”میں سورۃ مریم کی تفسیر میں مدتِ حمل کے سلسلے میں مختلف اقوال نقل فرمائے ہیں،  ان میں سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے اس قول کو زیادہ صحیح قرار دیا ہے۔  آپ لکھتے ہیں: 
” قَالَ اِبْنُ عَبَّاسٍ : مَا هُوَ إِلَّا أَنْ حَمَلَتْ فَوَضَعَتْ فِيْ الْحَالِ وَهٰذَا هُوَ الظَّاهِرُ ؛ لِأَنَّ اللّٰہَ تَعَالىٰ  ذَكَرَ الْاِنْتِبَاذَ عَقْبَ الْحَمْلِ “
ترجمہ:
“حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ حضرت مریم علیہا السلام جیسے ہی حاملہ ہوئی اسی گھڑی ولادت کے آثار شروع ہوگئے، اور یہی  قول ظاہر ہے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے حمل کے فوراً بعد گوشہ نشیں ہو جانے کا ذکر فرمایا ہے”۔  
چند سطور بعد امام قرطبی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں: 
” وَمَا ذَكَرْنَاهُ عَنِ اِبْنِ عَبَّاسٍ أَصَحُّ وَأَظْهَرُ . وَاللّٰہُ أَعْلَمُ “
(الجامع لأ حکام القرآن: ج2 ص 1955)
ترجمہ:
” حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما  سے جو قول (مدتِ حمل والا) ہم نے ذکر کیا ہے، وہی زیادہ ظاہر اور زیادہ صحیح ہے، اوراللہ تعالیٰ(ہی) زیادہ بہتر جانتے ہیں”۔ 
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء 
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved