• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

پانچوں نمازیں کب فرض ہوئیں؟

استفتاء

ہجرتِ مدینہ سے کتنا عرصہ قبل پانچوں نمازیں مکہ میں فرض ہوئی تھیں ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

پانچوں نمازیں معراج کے موقع پر فرض ہوئی تھیں۔ جیسا کہ صحیح البخاری میں باب المعراج میں ایک طویل حدیث موجود ہے۔ اس میں ہے کہ:
قُلْتُ أُمِرْتُ بِخَمْسِ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ ، قَالَ : إِنَّ أُمَّتَكَ لَا تَسْتَطِيعُ خَمْسَ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ وَإِنِّي قَدْ جَرَّبْتُ النَّاسَ قَبْلَكَ وَعَالَجْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَةِ فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ لِأُمَّتِكَ قَالَ سَأَلْتُ رَبِّي حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ وَلَكِنِّي أَرْضَى وَأُسَلِّمُ.(صحیح البخاری: ج1 ص549 ص550 کتاب بنیان الکعبۃ- باب المعراج)ترجمہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے ایک دن میں پانچ نمازوں کا حکم ہوا ہے۔ (اس پر موسیٰ علیہ السلام نے مجھے کہا) آپ کی امت ایک دن میں پانچ نمازيں نہيں پڑھ سکتی، میں نے تو آپ سے پہلے اپنے لوگوں کا تجربہ کيا ہے اور بنی اسرائيل کے ساتھ میں نے سخت برتاؤ کيا ہے (لیکن انہوں نے سستی کی ہے) لہذا آپ واپس جائیے اور اپنے رب سے اپنی امت کے لئے کمی کی درخواست کیجیے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمايا کہ ميں نے اللہ تعالیٰ سے اتنی (زيادہ) درخواست کی ہے کہ اب مجھے (مزيد درخواست سے) شرم آتی ہے۔ اس لیے میں اب راضی ہوں اور ان نمازوں کو تسلیم کرتا ہوں۔رہا واقعہ معراج تو ا س کے بارے میں مختلف اقوال ہیں، ،مشہور قول جو حضرت مولانا محمد ادریس کاندہلوی رحمہ اللہ نے سیرۃ المصطفیٰ میں تحریر فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ معراج کا سفر نبوت کے گیارہویں سال رجب کے مہینے کی 27 ویں تاریخ کو کرایا گیا ہے۔ (سیرۃ المصطفیٰ: ج1 ص280)اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ پانچوں نمازیں 27 رجب سن 11 نبوی میں فرض ہوئیں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved