• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

مسجد میں سلام کرنا کیسا ہے؟

استفتاء

مسجد میں جا کر اونچی آواز سے سلام کہنا کیسا ہے ؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ مسجد میں آکر سلام دینا چاہیے اس سے محبت پیدا ہوتی ہے۔ حضرت آپ رہنمائی فرمائیں کہ مسجد میں سلام دینا کیسا ہے اور ان لوگوں کو کیسے مطمئن کیا جائے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

بلاشبہ آپس میں سلام کرنا باہمی محبت اور تعلق میں اضافہ کا سبب ہے، سلام کرنے میں بہت سے دنیوی اور اخروی فوائد ہیں، اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کو عام کرنے کا حکم دیا ہے۔ لیکن دیگر امور کی طرح اس سلام میں بھی اعتدال کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے، جن مواقع پہ سلام کرنے کی اجازت ہےوہاں کیا جائے اور جہاں نہیں ہے وہاں نہ کیا جائے۔ فقہاء کرام رحمہم اللہ نے بہت سے ایسے مواقع ذکر کیے ہیں جن میں سلام کرنا مکروہ ہے۔مسجد میں سلام کرنے اور نہ کرنے کے بارے میں تفصیل یہ ہے:
(1) مسجد میں موجود افراد اگر مختلف عبادات؛ نماز، تلاوت، اذکاراوردینی تعلیم کے سیکھنے سکھانے میں مشغول ہوں تو انہیں سلام نہیں کرنا چاہیے، اس طرح ان کی یکسوئی اور اور توجہ میں خلل پیدا ہو جاتا ہے۔(2) اگر وہ عبادات میں مشغول نہ ہوں ، محض نماز کے انتظار میں بیٹھے ہوں تو بقدرِ ضرورت بلند آواز سے سلام کر سکتے ہیں۔(3) اگر کچھ افراد عبادات میں مشغول ہوں اور کچھ ویسے بیٹھے ہوں تو اتنی آواز میں سلام کرنے کی اجازت ہے کہ جس سے عبادت میں مشغول افراد کی توجہ منتشر نہ ہو۔(4) اگر مسجد میں عبادت کے علاوہ کسی اور غرض سے افراد جمع ہوں تو ان کو بلند آواز سے سلام کیا جا سکتا ہے۔نوٹ:
مسجد میں سلام کرنا ہو تو درج بالا تفصیل کو ملحوظ رکھا جائے۔ اگر کوئی بندہ اس کی پاسداری نہ کرے اور خلاف ورزی کرتے ہوئے اس قدر بلند آواز سے سلام کرے جو عبادت میں خلل کا باعث ہو،تو اسے محبت اور خیرخواہی کے ساتھ سمجھایا جائے، شدت، سختی اور ترش لب و لہجہ اختیار نہ کیا جائے کیوں کہ اس سے نفرت اور فساد جنم لیتے ہیں۔ یاد رکھیے کہ سلام کرنا مسنون عمل ہے، لیکن اختلاف، انتشار اور فساد سے بچنا فرض ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved