- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عرض یہ ہے کہ ہمارے پڑوس میں طلاق کا ایک واقعہ کچھ یوں پیش آیا کہ گھر میں نوک جھونک پر جھگڑا شروع ہوا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ شوہر نے بیوی کو گھر والوں اور آس پڑوس کی عورتوں کے سامنے تین طلاقیں دے دیں، پھر چھ سات مہینوں تک عدالت میں کیس چلا اور اب اچانک سے وہ کہتا ہے کہ کسی غیر مقلد عالم نے کہا ہے کہ یہ نکاح نہیں ٹو ٹا ہے اور میں اس کی ذمہ داری لیتا ہوں اور اس غیر مقلد عالم نے ان کو کہا کہ میں آپ کا نکاح دوبارہ پڑھاتا ہوں اور اب وہ میاں بیوی ایک ساتھ رہتے ہیں ۔ حضرت رہنمائی فرمائیں کہ کیا یہ طلاق واقع ہو نے کے بعد اب ان دونوں کا ساتھ رہنا شریعت کے رو سے کیسا ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
تین طلاقیں خواہ ایک مجلس میں دی جائیں یا الگ الگ مجلس میں، تینوں طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں۔ یہ بات قرآنِ کریم اور احادیث مبارکہ سے ثابت ہے اور اسی پر اھل السنۃ والجماعت کے چاروں مذاہب کا اتفاق و اجماع ہے۔تین طلاق کے بعد عورت اپنے سابق خاوند پر بالاتفاق حرام ہو جاتی ہے، جب تک شرعی حلالہ نہ ہو اس کے لیے حلال نہیں ہو سکتی۔ شرعی حلالہ کی صورت یہ ہے کہ یہ عورت عدت کے بعد کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے، وظیفہِ زوجیت کے بعد دوسرا خاوند از خود طلاق دے دے یا فوت ہو جائے، اس کی عدتِ طلاق یا وفات گزارنے کے بعد اب باہمی رضامندی سے( سابق شوہر سے )دوبارہ نکاح کرنا حلال ہو گا۔سوال میں ذکر کی گئی صورت اگر درست ہے تو ان میاں بیوی کا ایک ساتھ رہنا شرعاً حرام ہے، بہت سخت گناہ ہے، لہٰذا ان پر ضروری ہے کہ فوراً علیحدگی اختیار کریں۔ جن لوگوں نے یہ کہا کہ تین طلاقوں کے بعد شرعی حلالہ کے بغیر دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے، انہوں نے بالکل غلط مسئلہ بتایا ہے، اس پر عمل کرنا جائز نہیں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved