- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
دریافت یہ کرنا ہے کہ نمازی کے آگے سے گزرنا ہو تو کتنی دوری سے چل سکتے ہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
نمازی کے آگے سے گزرنے کی مختلف صورتیں ہیں، ہر ایک کا حکم حسبِ ذیل ہے:
(1) اگر مسجد چھوٹی ہو یا کمرہ میں نماز پڑھ رہا ہو تو نمازی کے آگے سے سترہ کے بغیر گزرنا جائز نہیں ہے، سترہ کا مطلب ہے کہ نمازی اور گزرنے والے درمیان کسی ایسی چیز کی رکاوٹ ہو جو کم از کم ایک گز لمبی ہواور اس کی چوڑائی جتنی بھی ہو۔(2) اگر مسجد بڑی ہو تو سترہ کے بغیر نمازی کے اتنے آگے سے گزرنا جائز ہے کہ وہ نمازی اگر سجدہ کرنے کی جگہ پہ نگاہ رکھے تو اسے گزرنے والا نظر نہ آئے، یہ فاصلہ تقریباً دوگز کا بنتا ہےاور ایک شرعی گز ڈیڑھ فٹ (اٹھارہ انچ) کا ہوتا ہے۔ اگرنمازی اس مقدار سے آگے تک دیکھ رہا ہو تب بھی گزرنے کے لیے یہی فاصلہ معتبر ہے جو ابھی ذکر کیا ہے۔(3) اگر کھلے میدان یا کسی پلاٹ میں نماز پڑھ رہا ہو تو اس کے سامنے سے گزرنے کا بھی وہی حکم ہے جو بڑی مسجد ہے۔فائدہ: ایسی مسجد جو چالیس شرعی گز لمبی اور چالیس شرعی گز چوڑی (ساٹھ فٹ لمبی اور ساٹھ فٹ چوڑی ) ہواسے “مسجد کبیر” کہا جاتا ہے اور ایسی مسجد جو لمبائی اور چوڑائی میں مسجد کبیر سے کم ہو اسے مسجد صغیر کہتے ہیں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved