• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

پچیس سال پہلے دی گئی طلاق سے متعلق وضاحتی بیان

استفتاء

ایک ماہ پہلے میں نے آپ سے کچھ سوال کیے تھے، جن کا آپ نے مجھے فتویٰ کی شکل میں جواب سینڈ کیا، میں آپ کا تہ دل سے مشکور ہوں، لیکن آپ نے آخر میں تین سوال کیے تھے، مجھ سے فرمایا تھا کہ ان کا جواب اپنے ابو سے پوچھ کر بتانا تو ان کی روشنی میں آپ کو جواب دیا جائے گا۔ گھر میں باہمی چپقلش کی وجہ سے میں اپنے ابو سے وہ سوال موقع پہ تو نہ پوچھ سکا، اب ایک ماہ کے بعد میں نے ابو سے وہ 3 سوال پوچھے ہیں جو آپ نے پوچھنے کا کہا تھا، میرے ابو کے جوابات ذیل میں درج کیے جاتے ہیں۔1 – میں نے اپنی بیوی کو کہا کہ میری طرف سے آپ کو طلاق ہے، اس کے بعد وہ میرے گھر سے میکے نہیں گئی اور نہ میں نے اس کو مار پیٹ کر کے اپنے گھر سےنکالا، تب سے (مطلب 25 سال سے ) میں اور میری بیوی اکٹھے رہ رہے ہیں اور 6 بچے بھی پیدا کیے ہیں اور اب میں اپنی بیوی سے علیحدگی چاہتا ہوں۔2- طلاق ایک ہی دی تھی دو یا تین نہیں دی تھیں۔3- علیحدگی بالکل نہیں ہوئی تھی۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

آپ کے والد محترم کے بقول اگر انہوں نے واقعتاً ایک ہی طلاق دی تھی پھر عدت(تین ماہواری  ماہواری نہ آنے کی صورت میں 3 ماہ کی مدت) کے اندر انہوں نے رجوع بھی کر لیا تھا،( رجوع زبانی بھی ہو جاتا ہے، جیسے  زبان سے یہ کہہ دیا جائے  کہ میں رجوع کرتا ہو ، اور  عملی طور پر  بھی ہو جاتا ہے، جیسے شہوت کے ساتھ بیوی کو چھونا لینا، بوس و کنار کرنا یا صحبت کرنا  ) تو اس سے طلاق کا اثر ختم ہو  گیا تھا، ان کا نکاح برقرار  رہا ، اس دوران میں پیدا ہونے والی اولاد صحیح النسب ہے،  لہٰذا اس طلاق کی وجہ سے اپنے نسب  کے بارے میں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔ 
آپ کے والد محترم اب کیوں علیحدگی اختیار کرنا چاہتے ہیں؟  اس حوالے سے اگر کوئی شرعی عذر یا وجہ ہو تو کسی مقامی صحیح العقیدہ مفتی صاحب کو تفصیلات سے آگاہ کرکے شرعی راہنمائی حاصل کر لیں، اگر بلاوجہ طلاق دے دی تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سخت مؤاخذہ ہو گا۔  
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء 
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved