• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

حدیث عمر کا مطلب

استفتاء

عرض یہ ہے کہ کمالات بشریہ میں سب سے افضل کمال نبوت کا ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں مُحَمَّد صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے کہ اگر میرے بعد نبی ہوتا تو عمر ہی ہوتا تو اس حدیث کی وجہ سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے حضرت عمررضی اللہ عنہ کی افضلیت زیادہ ثابت ہوتی ہے

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اس حدیث مبارکہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی افضلیت ثابت نہیں ہو رہی بلکہ اس میں اوصاف نبوت کی ترتیب بتلانا مقصود ہے وہ اس طرح کہ
اوصاف نبوت کا خلاصہ دو صفتیں ہیں :
صفت بشیرصفت نذیربشیر : فضائل سنا کر اور ترغیب دے کر جنت کی طرف بلانانذیر: وعیدات سنا کر جہنم سے ڈراناصفت بشیر کی بنیاد جمال ہے اور صفت نذیر کی بنیاد جلال ہےہر پیغمبر میں دونوں صفتیں موجود ہوتی ہیں لیکن غلبہ ایک صفت کا ہوتا ہےکسی پر جمال کا غلبہ ہوتا ہے اور کسی پر جلال کا غلبہ ہوتا ہےاللہ تعالی کی عادت مبارک یہ ہےکہ پہلے ایک ایسے نبی کو بھیجتے ہیں جس پر جلال کا غلبہ ہو اس کے بعد وہ نبی جس پر جمال کا غلبہ ہومثلا پہلے حضرت موسی علیہ السلام تشریف لائے جن پر صفت جلال کا غلبہ تھا اس کے بعد حضرت عیسی علیہ السلام تشریف لائے جن پر صفت جمال کا غلبہ تھا ۔اب آخر میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ میں دونوں صفات موجود ہیں لیکن صفت جمال کا غلبہ تھااب اگر کوئی نبی آتا تو وہ آتا جس پر صفت جلال کا غلبہ ہو اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر صفت جلال کا غلبہ تھا نہ کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ پراس لیے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اگر میرے بعد نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتا ۔جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر صفت جلال کا غلبہ ہے اور وہ نبی نہیں تو معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہو گاواللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved